کنٹرول لائن پر نئے راستوں کی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے عام لوگوں کے لیئے کنٹرول لائن پر مزید راستے کھولنے کی پیش کش کی ہے۔ وزيراعظم منموہن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں کہا مسٹر سنگھ کا کہنا تھا کہ مناسب وقت پر وہ اس سلسلے میں پاکستان کی حکومت سے بات چیت کریں گے۔ خارجی امور کے وزیر مملکت آنند شرما کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ہندوستان نے جموں و کشمیر کے سرحدی علاقے سچیت گڑھ۔ سیال کوٹ کے درمیان راستے کھولنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن پاکستان نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ مسٹر شرما کاکہنا تھا کہ اس سال جنوری ميں سیکرٹری کی سطح کی بات چیت کے دوران اس تجویز پر متبادلہ خیال کیا گیا تھا لیکن پاکستان یہ راستہ کھولنے کے لیئے تیار نہیں ہے۔ مسٹر شرما کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن لوگوں کے پاس باقاعدہ پرمٹ ہے وہ کنٹرول لائن پار کر سکتے ہیں اور اس میں مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں برتی جاتی۔ موجودہ معاہدے کے تحت دونوں جانب کے کشمیر کے باشندے پونچھ۔ گزشتہ جولائی میں ممبئی دھماکوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں تلخی پیدا ہو گئی ہے اور امن مذاکرات معطل ہو گئے ہیں لیکن گزشتہ دنوں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم نے اپنے خطاب میں امن کے عمل کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے کشمیر کے دنوں جانب کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں اور اس طرح کے اقدامات سے مستقبل کے لیئے نئی امیديں پیدا ہوئی ہیں۔ | اسی بارے میں لائن آف کنٹرول ، لوگوں کا غصہ، ہوائی فائرنگ07 November, 2005 | انڈیا لائن آف کنٹرول پر فائرنگ: بھارت21 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||