BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 July, 2008, 16:49 GMT 21:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جنگ بندی کا احترام کریں‘
ایل او سی پر جھڑپوں کے واقعات میں تیزی آئی ہے
کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر منگل کی تازہ ترین جھڑپ کے بعد ہندوستان نے کہا ہے کہ پاکستان کو سن دو ہزار تین کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنا چاہیے۔

وزیر دفاع اے کے انٹونی نےکہا کہ’لائن آف کنٹرول پرجنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات پر ہندوستان کو تشویش ہے۔‘

لیکن پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے ایل او سی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔

مسٹر انٹونی نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ امسال جنوری سے ایل او سی کی خلاف ورزی کے انیس واقعات ہوئے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ عسکریت پسندوں کو ہندوستان میں داخل ہونے کا موقع فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سات سو بیالیس کلومیٹر لمبی ایل او سی پر صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور در اندازی روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کی ہے کہ وہ سیز فائر کی سختی سے پابندی کرے اور تنازعہ کی صورت میں فلیگ میٹنگ اور ڈی جی ایم او (ڈائرکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن) سطح کی میٹنگ سے معاملے کو حل کریں۔

وزیر دفاع کی جانب سے یہ بیان پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کپوارہ سیکٹر میں جھڑپوں کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں ایک ہندوستانی فوجی ہلاک ہو گیا تھا۔

ان جھڑپوں کے بعد بھارت کی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ منگل کی دوپہر کو علاقے میں تعینات دونوں طرف کی فوجوں کے کمانڈروں کی ملاقات ایل او سی پر نوگام سیکٹر کے ہی ’ایگل ہِل‘ کے قریب منعقد ہوئی۔

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل انل کمار ماتھر نے کہا کہ فلیگ میٹنگ میں طرفین کے درمیان ’جوں کی توں‘ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

اس سے قبل کرنل ماتھر نے بتایا کہ دونوں طرف کے ڈی جی ایم اوز نے گزشتہ رات فون پر بات کی تھی اور متعلقہ فوجی کمانڈروں کو کپوارہ کے قریب نوگام سیکٹر میں ملاقات کی ہدایت دی تھی۔

تاہم فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے بعد بھی پاکستانی فوج نوگام سیکٹر میں تعمیر شدہ ہندوستانی اوبزرویشن پوسٹوں کو منہدم کرنے پر مصر ہے۔

پاکستانی فوج نے بھارتی فوج کے اس دعوے کو مسترد کر دی ہے کہ پاکستانی فوج کپواڑہ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول عبور کرکے دو سو میٹر تک بھارت کے علاقے میں گھس گئی تھی۔

پاکستان فوج نے کہا کہ کوئی پاکستانی فوجی بھارتی علاقے میں داخل نہیں ہوا۔

جھڑپوں کے آغاز کے چوبیس گھنٹوں بعد جاری کیئے گئے اس وضاحتی بیان میں بھارتی فوجیوں پر پاکستانی علاقے میں ایک چوکی قائم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

پاکستان فوج نے بھارتی فوج پر ایل او سی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا تھا

بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے احتجاج کے جواب میں بھارتی فوج نے پاکستانی علاقے پر بلااشتعال اور بلاامتیاز فائرنگ شروع کر دی۔ اس کا پاکستانی فوجیوں نے بھی جواب دیا۔

پاکستان فوج کے ترجمان نے بھارتی فوجیوں کی اس ’بلااشتعال فائرنگ‘ کی مذمت کرتے ہوئے کسی پاکستانی فوجی کی ہلاکت کی خبر کی تردید کی ہے۔

ترجمان کے مطابق ان کے پاس ایسے شواہد ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی علاقے میں چوکی قائم کرنے کی کوشش کی۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک متعلقہ فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فلیگ میٹنگ خوشگوار ماحول میں ہوئی اور پاکستانی فوج کی طرف سے کمانڈر جمشید یوسف نے ’ایگل ہِل‘ کے قریب واقع ایک کلومیٹر کے رقبے (نو مینز لینڈ) پر ہندوستانی افواج کی طرف سے بنکروں کی تعمیر پر اعتراض کیا، جس پر ان کے ہندوستانی ہم منصب نے انہیں یقین دلایا کہ اس رقبے پر جوں کی توں حالت برقرار رکھی جائیگی۔

لیکن اس میٹنگ میں شامل ایک فوجی افسر نے بتایا کہ پاکستان کا اصرار ہے کہ ’ایگل ہِل‘ کے قریب ہندوستانی فوج کی آتما پوسٹ کے ساتھ ملحقہ ایک کلومیٹر کا علاقہ داراصل ’نومینز لینڈ‘ ہے اور اس پر کوئی بھی فوجی تعمیر نہیں ہوسکتی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستانی افواج نے اس اعتراض کو تسلیم کیا ہے اور بنکروں کی تعمیر کا کام روک دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد