BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 July, 2008, 03:13 GMT 08:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایل او سی پر وقفے وقفے سے فائرنگ
 لائن آف کنٹرول پر فوجی(فائل فوٹو)
یہ پہلا موقعہ ہے جب فوجی ترجمان کے مطابق پاکستانی فوج کے حملے میں ہندوستانی سپاہی ہلاک ہوا ہے
بھارتی فوج نے کہا ہے کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے شمالی ضلع کپواڑہ میں پیر کی شام کنٹرول لائن کے قریب نوگام سیکٹر میں شروع ہونے والی فائرنگ کا سلسلہ رک رک کر رات بھر جاری رہا۔ فوج کے ترجمان کرنل اے کے ماتھر نے ئے منگل کی الصبح بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اس وقت بھی فائرنگ جاری تھی۔

فائرنگ میں پیر کو بھارتی فوج کی راجپوتانہ رائفلز کا ایک جوان ہلاک ہوگیا تھا۔ پاکستانی فوج نے اس جھڑپ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

ترجمان کرنل انِل کمار ماتھُر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خدا کرے یہ فائرنگ بند ہو جائے‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت جنگ بندی پر قائم ہے۔

بھارت کا الزام
 جنگ بندی شروع ہونے کے بعد کئی بار بھارت اور پاکستان ایک دوسرے پر اس کے خلاف ورزی کے الزام لگا چکے ہیں، لیکن بھارتی فوجی ترجمان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی فوجی ایل او سی پار کرے کے بھارت کے زیر انتظام علاقے میں داخل ہوئے
سرینگر میں ہمارے نامہ نگار الطاف حسین نے بتایا کہ جنگ بندی شروع ہونے کے بعد کئی بار بھارت اور پاکستان ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کے الزامات لگا چکے ہیں، لیکن بھارتی فوجی ترجمان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی فوجی ایل او سی پار کرے کے بھارت کے زیر انتظام علاقے میں داخل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معمول کی دراندازی کا واقع نہیں تھا، بلکہ پاکستانی فوج کی طرف سے چار سالہ فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

مسٹر ماتھُر نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ پیر کی شام ساڑھے تین بجےکپوارہ کے نوگام سیکٹر میں کنٹرول لائن کی دوسری جانب تعینات پاکستانی افواج نے ہلکے ہتھیاروں سے ایگل پوسٹ پر تعینات 'ایگل پوسٹ' نامی راجپوتانہ رائفلز کی حفاظتی چوکی پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں سپاہی مہیش کمار ہلاک ہوگیا اور بعض دیگر زخمی ہوگئے۔

نوگام سیکٹر میں تعینات ایک سینئر فوجی افسر نے بتایا کہ نوگام سیکڑ کا بیشتر حصہ اُنیس سو اکہتّر کی جنگ سے پہلے پاکستانی قبضہ میں تھا، اور بنگلہ دیش کے معاملے پر ہوئی جنگ کے دوران ہندوستانی افواج نے نوگام سیکٹر کو حاصل کیا تھا۔

واضح رہے پاکستان میں اس سال فروری میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت وجود میں آنے کے بعد متعدد بار ہندوستانی اور پاکستانی افواج دو ہزار تین سے جاری سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے آئے ہیں۔

اس دوران ہندوستانی فوج کے کشمیر میں تعینات ترجمان نے کئی مرتبہ مسلح شدت پسندوں کی دراندازی کے پیچھے پاکستانی ہاتھ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہرعباس نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ انہیں انٹرویو کے وقت تک اس بارے میں کچھ علم نہیں۔

اسی بارے میں
جوابی کارروائی کا دعویٰ
12 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد