ایل او سی پر وقفے وقفے سے فائرنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی فوج نے کہا ہے کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے شمالی ضلع کپواڑہ میں پیر کی شام کنٹرول لائن کے قریب نوگام سیکٹر میں شروع ہونے والی فائرنگ کا سلسلہ رک رک کر رات بھر جاری رہا۔ فوج کے ترجمان کرنل اے کے ماتھر نے ئے منگل کی الصبح بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اس وقت بھی فائرنگ جاری تھی۔ فائرنگ میں پیر کو بھارتی فوج کی راجپوتانہ رائفلز کا ایک جوان ہلاک ہوگیا تھا۔ پاکستانی فوج نے اس جھڑپ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ ترجمان کرنل انِل کمار ماتھُر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خدا کرے یہ فائرنگ بند ہو جائے‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت جنگ بندی پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معمول کی دراندازی کا واقع نہیں تھا، بلکہ پاکستانی فوج کی طرف سے چار سالہ فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ مسٹر ماتھُر نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ پیر کی شام ساڑھے تین بجےکپوارہ کے نوگام سیکٹر میں کنٹرول لائن کی دوسری جانب تعینات پاکستانی افواج نے ہلکے ہتھیاروں سے ایگل پوسٹ پر تعینات 'ایگل پوسٹ' نامی راجپوتانہ رائفلز کی حفاظتی چوکی پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں سپاہی مہیش کمار ہلاک ہوگیا اور بعض دیگر زخمی ہوگئے۔ نوگام سیکٹر میں تعینات ایک سینئر فوجی افسر نے بتایا کہ نوگام سیکڑ کا بیشتر حصہ اُنیس سو اکہتّر کی جنگ سے پہلے پاکستانی قبضہ میں تھا، اور بنگلہ دیش کے معاملے پر ہوئی جنگ کے دوران ہندوستانی افواج نے نوگام سیکٹر کو حاصل کیا تھا۔ واضح رہے پاکستان میں اس سال فروری میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت وجود میں آنے کے بعد متعدد بار ہندوستانی اور پاکستانی افواج دو ہزار تین سے جاری سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے آئے ہیں۔ اس دوران ہندوستانی فوج کے کشمیر میں تعینات ترجمان نے کئی مرتبہ مسلح شدت پسندوں کی دراندازی کے پیچھے پاکستانی ہاتھ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ | اسی بارے میں ایل او سی پر فائرنگ کا تبادلہ26 July, 2008 | پاکستان ’پاکستانی پوسٹ پر انڈیا کی فائرنگ‘ 10 July, 2008 | پاکستان جوابی کارروائی کا دعویٰ12 July, 2008 | پاکستان پاکستان کے ساتھ ہفتہ الحاق منانے پر بحث13 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||