’نومینز لینڈ‘ پر بنکروں کی تعمیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع علاقے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر کپوارہ سیکٹر میں جھڑپوں کے حوالے سے دونوں ملکوں کی طرف سے متضاد دعوئے کیئے جا رہے ہیں اور آخری اطلاعات کے مطابق علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ بھارت کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ منگل کی دوپہر کو علاقے میں تعینات دونوں طرف کی فوجوں کے کمانڈروں کی ملاقات ایل او سی پر نوگام سیکٹر کے ہی ’ایگل ہِل‘ کے قریب منعقد ہوئی۔ بھارتی فوج کے ترجمان کرنل انل کمار ماتھر نے کہا کہ فلیگ میٹنگ میں طرفین کے درمیان ’جوں کی توں‘ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ بھارت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا کہ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی بڑھتی ہوئی خلاف وزریاں بھارت کے لیے تشویش کا باعث رہا ہے اور جنوری 2008 سے اب تک ایسے کل انیس واقعات ہوئے ہيں جس میں زیادہ تر واقعات جون اور جولائی کے مہینے ميں رونما ہوئے ہیں۔ اور یہ وہ مہینے ہيں جب شدت پسندوں کی جانب سے زیادہ تر دراندازی کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کی ہے کہ وہ سیز فائر کی سختی سے پابندی کرے اور تنازعہ کی صورت میں فلیگ میٹنگ اور ڈی جی ایم او (ڈائرکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن) سطح کی میٹنگ سے معاملے کو حل کریں۔ اس سے قبل کرنل ماتھر نے بتایا کہ دونوں طرف کے ڈی جی ایم اوز نے گزشتہ رات فون پر بات کی تھی اور متعلقہ فوجی کمانڈروں کو کپوارہ کے قریب نوگام سیکٹر میں ملاقات کی ہدایت دی تھی۔ تاہم فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے بعد بھی پاکستانی فوج نوگام سیکٹر میں تعمیر شدہ ہندوستانی اوبزرویشن پوسٹوں کو منہدم کرنے پر مصر ہے، اور اس سلسلے میں پاکستانی زیرانتظام علاقے سے رُک رُک کر گولیوں کی آوازیں ابھی بھی آرہی ہیں۔ پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی طرف سے جاری ہونے والے اخباری بیان میں کہا گیا کہ اس سیکٹر میں فائرنگ کا سلسلہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے جاری ہے اور آخری خبریں آنے تک اس میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔ اس بیان میں بھارتی فوج کے اس دعوے کو مسترد کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کپوارہ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول عبور کرکے دو سو میٹر تک بھارت کے علاقے میں گھس گئی تھی۔ پاکستان فوج نے کہا کہ کوئی پاکستانی فوجی بھارتی علاقے میں داخل نہیں ہوا۔ جھڑپوں کے آغاز کے چوبیس گھنٹوں بعد جاری کیئے گئے اس وضاحتی بیان میں بھارتی فوجیوں پر پاکستانی علاقے میں ایک چوکی قائم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے احتجاج کے جواب میں بھارتی فوج نے پاکستانی علاقے پر بلااشتعال اور بلاامتیاز فائرنگ شروع کر دی۔ اس کا پاکستانی فوجیوں نے بھی جواب دیا۔ پاکستان فوج کے ترجمان نے بھارتی فوجیوں کی اس بلااشتعال فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کسی پاکستانی فوجی کی ہلاکت کی خبر کی تردید کی ہے۔ ترجمان کے مطابق ان کے پاس شواہد جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی علاقے میں چوکی قائم کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ شواہد بھارتی حکام کو فلیگ میٹنگ میں پیش کیئے جائیں گے۔ تاہم یہ ملاقات کب متوقع ہے اس بارے میں بیان میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک متعلقہ فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فلیگ میٹنگ خوشگوار ماحول میں ہوئی اور پاکستانی فوج کی طرف سے کمانڈر جمشید یوسف نے ’ایگل ہِل‘ کے قریب واقع ایک کلومیٹر کے رقبے (نو مینز لینڈ) پر ہندوستانی افواج کی طرف سے بنکروں کی تعمیر پر اعتراض کیا، جس پر ان کے ہندوستانی ہم منصب نے انہیں یقین دلایا کہ اس رقبے پر جوں کی توں حالت برقرار رکھی جائیگی۔ لیکن اس میٹنگ میں شامل ایک فوجی افسر نے بتایا کہ پاکستان کا اصرار ہے کہ ’ایگل ہِل‘ کے قریب ہندوستانی فوج کی آتما پوسٹ کے ساتھ ملحقہ ایک کلومیٹر کا علاقہ داراصل ’نومینز لینڈ‘ ہے اور اس پر کوئی بھی فوجی تعمیر نہیں ہوسکتی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستانی افواج نے اس اعتراض کو تسلیم کیا ہے اور بنکروں کی تعمیر کا کام روک دیا ہے۔ اس دوران نوگام سیکٹر میں وقفے وقفے سے جاری فائرنگ کے حوالے سے مذکورہ فوجی افسر نے بتایا، 'چونکہ پاکستان کا اصرار ہے کہ اب تک تعمیر شدہ اوبزرویشن پوسٹوں کو بھی ہٹایا جائے، اس لئے وہ گولی باری جاری رکھے ہوئے ہیں، پیر کی شب کے بعد سے کوئی دوبدو تصادم نہیں ہوا ہے۔‘ واضح رہے پیر کے روز پاکستانی افواج نے ان ہی تعمیرات پر اعتراض کرتے ہوئے ہندوستانی پوزیشنوں پر فائرنگ کی تھی، جس میں ہندوستانی فوج کا ایک جوان سپاہی مہیشور ہلاک ہوگیا۔ جوابی کاروائی میں پاکستانی فوج کو پہنچے کسی جانی نقصان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔ فوجی ذرائع کے مطابق کنٹرول لائن پر جاری چار سالہ سیز فائر کے دوران مذکورہ نومینز لینڈ پر ہندوستانی افواج گشت کرتی رہی ہیں، اور امسال برف پگھلنے کے بعد دراندازیوں پر نظر رکھنے کے لئے بعض بنکروں کی تعمیر کی گئی تھی۔ جموں کشمیر کو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بانٹنے والی ساڑھے سات سو کلومیٹر کنٹرول لائن پچھلے ساٹھ سال میں پہلی مرتبہ چارسال تک سیز فائر کی وجہ سے خاموش رہی ہے، لیکن اس دوران بھی وفقے وقفے سے طرفین ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ایل او سی پر وقفے وقفے سے فائرنگ29 July, 2008 | پاکستان ایل او سی فائرنگ: بھارتی فوجی ہلاک28 July, 2008 | پاکستان فائرنگ: 4 پاکستانی فوجی ہلاک19 June, 2008 | پاکستان کشمیری لاش بھارتی حکام کے حوالے04 May, 2008 | پاکستان ’پاکستان مسئلہ کشمیر سے پسپا‘05 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||