BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 July, 2008, 12:24 GMT 17:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئی ایس آئی، کچھ سوالوں کے جواب نہیں

آئی ایس آئی وزیر اعظم کو ہی جوابدہ لیکن کئی سوال جواب کے منتظر
وفاقی حکومت کی جانب سے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس یا آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے اور پھر چند گھنٹوں بعد اس کا کنٹرول واپس وزیراعظم کے سپرد کیے جانے کے اعلانات نے آئی ایس آئی کے کردار اور اتحادی حکومت میں پائے جانے والے تضادات کے بارے میں بعض نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

چند گھنٹوں میں ہی متنازعہ حیثیت اختیار کرنے والے یہ دو سرکاری اعلانات رات گئے جاری کیے گئے۔

وزارت داخلہ سے جاری ہونے والے پہلے نوٹیفیکشن میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نے انٹیلی جنس بیورو اور آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے انتظامی، مالیاتی اور آپریشنل کنٹرول میں دینے کی منظوری دے دی ہے اور یہ فیصلہ فوری طور پر قابل عمل ہو گا۔

چند گھنٹے بعد وزارت اطلاعات اور نشریات کی جانب سے ایک اور نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ آئی ایس آئی کے کنٹرول کے بارے میں جاری ہونے والے سرکاری اعلامیہ کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔

 اصولی طور پر یہ بالکل ٹھیک بات ہے کہ آئی ایس آئی پر سویلین کنٹرول ہونا چاہئے اور کسی وزارت کے بغیر براہ راست وزیر اعظم کا کنٹرول زیادہ موثر نہیں ہو سکتا۔ اور پھر ایسا کر کے آئی ایس آئی پر لگنے والے ان الزامات کا دفاع بھی کیا جا سکتا ہے کہ یہ ادارہ کسی کے کنٹرول میں ہی نہیں ہے
لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود

وزارت اطلاعات کے بیان کے مطابق وزارت داخلہ کے اعلان میں صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ اور داخلی سلامتی کے معاملات میں آئی ایس آئی اور وزارت داخلے کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔

وزارت دفاعی پیداوار کے سابق سیکرٹری اور دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود دوسرے نوٹیفیکیشن کے منظر عام پر آنے سے پہلے جاری ہونے والے پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زردار کے اس بیان کی حمایت کرتے ہیں کہ آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنا خود اس ادارے اور ملک کے لئے ایک اچھا قدم ہوتا۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’اصولی طور پر یہ بالکل ٹھیک بات ہے کہ آئی ایس آئی پر سویلین کنٹرول ہونا چاہئے اور کسی وزارت کے بغیر براہ راست وزیر اعظم کا کنٹرول زیادہ موثر نہیں ہو سکتا۔ اور پھر ایسا کر کے آئی ایس آئی پر لگنے والے ان الزامات کا دفاع بھی کیا جا سکتا ہے کہ یہ ادارہ کسی کے کنٹرول میں ہی نہیں ہے۔‘

لیکن جب اس نوٹیفیکیشن کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے دوسرا اعلان سامنے آیا تو جو آواز سب سے پہلے سنائی دی وہ حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین کا احتجاجی بیان تھا۔

پہلے انہوں نے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کر دینے کے اقدام کو حکومت کی بدنیتی قرار دیا۔ مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے سیاسی اجنڈے کی تکمیل کے لیے آئی ایس آئی کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لیکن دوسرے نوٹیفیکیشن کے ساتھ ہی انکا بیان بھی کچھ بدل گیا۔

 حکومت اور پیپلز پارٹی میں شامل بعض غیر منتخب لوگ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے اختیارات کو سلب کرنا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے لئے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ غیر منتخب افراد کا یہ ٹولہ پارلیمنٹ اور حکومت پر اپنی عملداری قائم کرنے کے لئے کوشاں ہے
مشاہد حسین

اس بار انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات اور سوات امن معاہدے کی طرح آئی ایس آئی کے بارے میں یہ فیصلہ بھی جلد بازی میں کیا گیا تھا۔

’حکومت اور پیپلز پارٹی میں شامل بعض غیر منتخب لوگ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے اختیارات کو سلب کرنا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے لئے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ غیر منتخب افراد کا یہ ٹولہ پارلیمنٹ اور حکومت پر اپنی عملداری قائم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔‘

مشاہد حسین نے اعتراف کیا کہ انکی جماعت کے دور حکومت میں بھی بعض مواقع پر ایسا ہی ہوتا تھا۔

’لیکن کم از کم ہمیں یہ تو پتہ تھا کہ ایک جرنیل آرمی ہاؤس میں بیٹھ کر ہماری حکومت کے بارے میں فیصلے کر رہا ہے۔ آج تو کابینہ کے کسی رکن کو یہ بھی نہیں پتہ کہ فیصلے کہاں اور کون کر رہا ہے۔ آیا یہ ایک آدمی ہے، دو، تین یا چار۔ اور کیا یہ فیصلے اسلام آباد میں ہو رہے ہیں، لندن میں یا دبئی میں۔‘

اس نئے نوٹیفیکیشن کے بعد عملی طور پر آئی ایس آئی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار میں تو کوئی تبدیلی ظہور پذیر نہیں ہو سکی لیکن ان اعلانات نے پہلے ہی سے اختلافات کا شکار حکمران اتحاد میں ایک اور دراڑ ڈال دی ہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے حکومت کی بڑی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ رات آئی ایس آئی کے کردار اور رتبے میں تبدیلی کے لیے جو کچھ کیا اس سے ملک کو شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ملا۔

’ بنیادی نقص ہی یہی ہے کہ حکومت کے اندر اعتماد کا فقدان ہے۔ اس مرتبہ جو کچھ کیا گیا ہے وہ اس حکومت اور ملک کے لئے سخت شرمندگی کا باعث ہے اور اتحادی جماعتیں اس سب معاملے سے لا تعلق ہیں۔‘

بیشتر دفاعی اور سیاسی تجزیہ کار اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ملکی سیاست میں آئی ایس آئی کا کردار اگر ختم نہیں تو محدود ضرور ہو جانا چاہئے۔ لیکن کیا ان نوٹیفیکیشنز کے ذریعے وفاقی حکومت واقعی ایسا ہی کرنا چاہ رہی تھی۔ اور کیا محض ایک سرکاری اعلامیہ آئی ایس آئی کو پاکستانی سیاست سے باہر دکھیلنے کے لئے کافی ہوگا، اس بارے میں متضاد آراء سامنے آرہی ہیں۔

اسی بارے میں
آئی ایس آئی کا سربراہ تبدیل
21 September, 2007 | پاکستان
ڈی جی آئی ایس آئی کو نوٹس
29 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد