ISI وزارت داخلہ کے کنٹرول میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے ملک کی دو خفیہ ایجنسیوں کو جن میں انٹیلیجنس بیورو ( آئی بی) اور انٹر سروسز اٹیلیجنس (آئی ایس آئی) شامل ہیں، وزارت داخلہ کے کنٹرول میں دے دیا ہے۔اس ضمن میں سنیچر کے روز کیبنٹ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق 1973 کےآئین کے رول تین کے تحت وزیر اعظم نے ان دونوں قومی اداروں کو وزارت داخلہ کے ماتحت کر دیا ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق ان دونوں خفیہ ایجنسیوں کا مالی، انتظامی اور آپریشنل کنٹرول وزارت داخلہ کو سونپ دیا گیا ہے۔ اس سےقبل آئی ایس آئی کا انتظامی کنٹرول وزارت دفاع کے پاس تھا لیکن وہ وزیراعظم کو رپورٹ کرتی تھی جبکہ آئی بی کا انتظامی کنٹرول بھی وزیراعظم کے پاس تھا۔ یاد رہے کہ ماضی میں آئی بی کا انتظامی کنٹرول وزارت داخلہ کے پاس ہی ہوتا تھا تاہم جب صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو انہوں نے اس کا کنٹرول وزارت داخلہ سے لے کر وزیراعظم کے سپرد کر دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے ان قومی اداروں کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کے حوالے سے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اعتماد میں لیا ہے اور ان دونوں اداروں کو وزرات داخلہ کے ماتحت کرنے کا مقصد دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف جاری جنگ میں ان کے کردار کو مزید موثر بنانا ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد ملک کی پہلی انٹیلجنس ایجنسی آئی بی بنائی گئی تھی جس کے بعد آئی ایس آئی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ پاکستان میں تاثر پایا جاتا ہے کہ دونوں ایجسنیاں سماج دشمن عناصر پر نظر رکھنے کے علاوہ حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین کی نقل وحرکت پر بھی نظر رکھتی ہے۔ملک میں لاپتہ ہونے والے افراد کے عزیز و اقارب کا بھی یہ دعوٰی ہے کہ اُن کے رشتہ دار انہی اداروں کی تحویل میں ہیں۔ | اسی بارے میں گیلانی کو آئی ایس آئی کی بریفنگ16 May, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی کا سربراہ تبدیل21 September, 2007 | پاکستان ’آئی ایس آئی نے بیٹا اغوا کر لیا‘02 November, 2006 | پاکستان ڈی جی آئی ایس آئی کو نوٹس 29 September, 2006 | پاکستان ’آئی ایس آئی نے سرد جنگ جیتی‘28 September, 2006 | پاکستان ’انجینئر آئی ایس آئی کی تحویل میں‘01 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||