BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 May, 2008, 19:13 GMT 00:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گیلانی کو آئی ایس آئی کی بریفنگ

گیلانی
وزیراعظم کو ملکی سلامتی کے بارے میں ’آئی ایس آئی‘ کی یہ دوسری بریفنگ ہے
پاکستان کی خفیہ ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ نے ملکی سلامتی کے بارے میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو تفصیلی بریفنگ دی ہے۔

’آئی ایس آئی‘ کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی اس بریفنگ میں وزیراعظم کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزارت داخلہ کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر رحمٰن ملک نے بھی شرکت کی۔

وزیراعظم کو ملکی سلامتی کے بارے میں ’آئی ایس آئی‘ کی یہ دوسری بریفنگ ہے۔ اس بریفنگ کے بارے میں تاحال سرکاری طور پر کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔

البتہ بعض حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو ملکی سلامتی، سرحدی صورتحال، بلوچستان ، وزیرستان، لاپتہ افراد اور بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کے متوقع اثرات کے بارے میں جمعہ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی بریفنگ میں شرکت اس بات کی علامت ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے بارے میں تحفظات پر کھل کر بحث کی جائے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ’آئی ایس آئی‘ کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر لاپتہ افراد کا معاملہ حل کیا جائے اور ان گمشدہ افراد میں سے اگر کسی کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد ہیں تو ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات دائر کیے جائیں اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کا کردار محدود کرنے اور سیاسی عمل کو اولیت دینے پر زور دیا اور کہا کہ صوبے کے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ’آئی ایس آئی‘ کی بریفنگ میں آصف علی زرداری کی وزیراعظم کے ہمراہ شرکت کی تو تصدیق کی ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ بریفنگ کی تفصیلات کا انہیں علم نہیں۔

تاہم ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی کارروائی بند کرنے تمام معاملات سیاسی انداز میں طے کرنے، گرفتار سیاسی کارکنوں کی رہائی اور باالخصوص لاپتہ افراد کی بازیابی کے بارے میں پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے اور حکومت متعلقہ فورم پر اپنا مؤقف پیش کرتی رہی ہے۔

جب انہیں یاد دلایا کہ ان کی جماعت نے لاپتہ افراد کے بارے میں سپریم کورٹ میں زیر التویٰ کیس میں فریق بنتے ہوئے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ خفیہ اداروں کے کردار کا تعین ہونا چاہیے کہ وہ کس کو جوابدہ ہیں تو فرحت اللہ بابر نے کہا ’باالکل ہماری جماعت آج بھی یہ چاہتی ہے کہ آئی ایس آئی سمیت تمام انٹیلی جینس اداروں کے کردار کا تعین ہونا چاہیے کہ ان کا آپریشنل کنٹرول کس کے پاس ہے، یہ ادارے کس کو جوابدہ ہیں۔‘

بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے کی بعض ریاستی حلقوں سے مخالفت کے بارے میں سوال پر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس بارے میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اس بارے میں وزارت قانون سے انہیں مسودہ مل گیا ہے اور بہت جلد حکومت اقوام متحدہ سے اس بارے میں رجوع کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد