’وہ بیٹا نہیں ہے میرا بلکہ ہیرا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’وہ بیٹا نہیں ہے میرا بلکہ ہیرا ہے ہیرا، جگر کا ٹکڑا ہے وہ میرا‘۔ یہ کہتے ہوئے پروین اختر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائیں اور رو پڑیں۔ میں نے ان سے صرف اتنا پوچھا تھا کہ ان کا بیٹا کیسے لاپتہ ہوا؟ اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون فور میں دو کمروں کے چھوٹے سے گھر میں رہائش پذیر اس خاتون کا جواں سال بیٹا اسد حسین شاہ زیادہ عرصے سے نہیں بلکہ دو ہفتے قبل ہی لاپتہ ہوا ہے اور اس دن سے ان کی حالت غیر ہے۔ ان کے شوہر ریاض حسین شاہ اپنے محلے کے ہی ایک ریسٹورنٹ میں معمولی تنخواہ پر ملازمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ’جب سے یہ واقعہ ہوا ہے یہ تو نیم پاگل سی ہوگئی ہے، روتے روتے ہنسنے لگتی ہے اور راتوں کو بھی باہر رستوں پر جاکر اپنے بیٹے کو پکارتی رہتی ہے‘۔ دوبارہ استفسار پر وہ اصل واقعہ بتانے لگے۔’گیارہ مارچ کو رات گیارہ بجے کا وقت تھا کہ کچھ لوگ گھر پر آئے۔ ان میں سے دو ایلیٹ فورس کی وردری میں تھے۔ انہوں نے میرے بیٹے کو سوتے سے اٹھایا اور یہ کہہ کر ساتھ لے گئے کہ ہمیں دس پندرہ منٹ اس سے بات کرنی ہے اس کے بعد اسے واپس بھیج دیں گے۔ آج سولہ سترہ دن گزر گئے ہیں ہمیں اس کے بارے میں کسی قسم کی کوئی اطلاع نہیں ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد انہوں نے علاقے کے تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی لیکن پولیس اب تک اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کر رہی ہے کہ اسد کہاں ہے۔
ریاض حسین شاہ کے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں میں اسد سب سے بڑا تھا اور ایک نجی کالج میں بی ایس ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ کا سٹوڈنٹ تھا۔ اس کے لاپتہ ہونے کی وجہ کیا بنی؟ ریاض حسین شاہ کا کہنا ہے کہ ’جامعہ حفصہ میں میری صاحبزادی پڑھتی تھی اس کی عمر تقریباً اٹھارہ سال ہے۔ جس دن لال مسجد پر آپریشن شروع ہوا تھا ہم وہاں گئے اور اپنی بیٹی کو لے کر واپس آگئے تھے، اس کے بعد ہم وہاں نہیں گئے۔ پھر جب لال مسجد دوبارہ کھلی تو نماز پڑھنے چلے جاتے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق بنیادی طور پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے گاؤں ٹائیں، راولا کوٹ سے ہے اور وہ صرف اپنے بچوں کی اچھی تعلیم کے سلسلے میں دس سال سے اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہمارا بیک گراؤنڈ چیک کیا جائے، ہماری کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے بیٹے کا تعلق کسی بھی جہادی تنظیم سے ہے، وہ تو صبح میں سینٹ پال کالج راولپنڈی میں صبح پڑھاتا تھا اور شام کو پڑھنے کے لئے یونیورسٹی چلا جاتا تھا، اس کے پاس اتنا ٹائم ہی نہیں ہوتا تھا کہ دوستیاں رکھے‘۔
اسد کہاں ہے، کس حال میں ہے اور گھر کب لوٹے گا، یہی فکر ان کے والدین کی طرح پاکستان کے ایسے کئی والدین کو کھائے جارہی ہے، جن کے بیٹے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے ہاتھوں مبینہ طور پر گرفتار ہونے کے بعد لاپتہ ہوگئے اور اب تک واپس نہیں آئے۔ سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جب اس معاملے پر وفاقی حکام کو جیل میں ڈالنے کی تنبیہ کی تو اس کے چند ہفتوں بعد ہی انہیں بھی رخصت کردیا گیا۔ اب اسد کی پراسرار حراست سے صاف ظاہر ہے کہ اٹھارہ فروری کے بعد ملک کا سیاسی منظر نامہ تو بدلا ہے لیکن لوگوں کے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے ہاتھوں مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کا سلسلہ اب بھی تھما نہیں ہے۔ نئی حکومت اس مسئلے کے حل میں کتنی دلچسپی رکھتی ہے، اس بارے میں پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ’پیپلز پارٹی ماضی میں پارلیمان کے اندر قراردادیں اور تحریکیں پیش کر کے یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ لوگوں کو بلاوجہ یا بوجہ اٹھانے والی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کسی قاعدے قانون کا پابند بنایا جائے اور جن لوگوں کو غائب کیا گیا ہے انہیں برآمد کرکے انہیں قانون کے مطابق انصاف دیا جائے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ہم آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کریں گے اور دوسرا حل یہ کریں گے کہ وہ انٹیلی جنس ادارے جو اس وقت ایسے کام کر رہے ہیں کہ گویا یہ لگ رہا ہے کہ قانون سے ماوراء ہیں ہم انہیں قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کریں گے‘۔
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی چئرپرسن عاصمہ جہانگیرلاپتہ افراد کا مقدمہ لڑتی رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ نئی حکومت کو اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے عدالتی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا اور کچھ اور اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ (حکومت) ایک کمیشن بٹھائے اور دیکھے کہ ان لوگوں کو کس نے اٹھایا، آئی ایس آئی اور دوسری ایجنسیاں کس قانون کے تحت کام کرتی ہیں بتایا جائے اور کورٹ یہ واضح ہدایت دے کہ اس طرح سے لوگوں کو نہ پکڑا جائے تاکہ پھر ہم ہر حکومت کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں اور یہ ایک مثال بن جائے‘۔ عاصمہ جہانگیر تو مستقل حل کی بات کرتی ہیں لیکن تازہ لاپتہ نوجوان اسد کے والدین کی فریاد تو بہت سادہ سی ہے۔ ریاض حسین کہتے ہیں کہ ’میں نئی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمارا بیٹا اور جو باقی بے گناہ لوگ ہیں ان کی رہائی کے لیے حکم صادر کیا جائے، اگر وہ مجرم ہے تو ہمیں بتایا جائے اور اسے پھر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے‘۔ | اسی بارے میں پاکستان میں لاپتہ افرادمزید بڑھ گئے23 March, 2008 | پاکستان لاپتہ و اسیر: تربت میں خواتین مظاہرہ14 March, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے جلوس08 March, 2008 | پاکستان بلوچستان: صحافی چار ماہ سے لا پتہ07 March, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد: آرمی چیف کو الٹی میٹم07 March, 2008 | پاکستان ’صفدر سرکی کی حراست کےدو سال‘23 February, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد کی بازیابی کی اپیل22 February, 2008 | پاکستان ’میرا بیٹا کبھی اٹک پار بھی نہیں گیا‘14 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||