BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 February, 2008, 18:31 GMT 23:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ افراد کی بازیابی کی اپیل

ڈیفینس آف ہیومین رائٹس
لاپتہ افراد کا ازخود نوٹس لینے کے بعد ہی مغزول چیف جسٹس افتخار چودھری کے صدر پرویز مشرف کے ساتھ اختلافات شروع ہوئے۔
پاکستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سرگرمِ عمل غیر سرکاری تنظیم ڈیفینس آف ہیومین رائٹس نے حالیہ انتخابات میں اکثریت جیتنے والی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو نئی حکومت کی ترجیحات میں شامل کریں۔

جمعہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیفینس آف ہیومین رائٹس کی سربراہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے پاکستان کی نئی فوجی قیادت پر بھی زور دیا کہ وہ آئندہ حکومت کا انتظار کرنے کی بجائے خیر سگالی کے طور پر ایجنسیوں کی حراست میں موجود افراد کو رہا کر دیں تاکہ عوام میں فوج کی ساکھ پھر سے بہتر ہو سکے۔

اس موقع پر لاپتہ افراد کا مقدمہ لڑنے والے وکیل خالد خواجہ اور دو لاپتہ اشخاص ڈاکٹر عابد شریف اور منظور مہدی کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔ اس غیر سرکاری تنظیم کی سربراہ آمنہ مسعود جنجوعہ کے شوہر ڈاکٹر مسعود جنجوعہ بھی تین سال سے پراسرار طور پر غائب ہیں۔

آمنہ مسعود نے حکومت کے لیے نو منتخب سیاسی جماعتوں کو مبارکباد دی اور ان سے اپیل کی کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ان کی حکومت کے ایجنڈے میں اتنا ہی اہم ہونا چاہیے جتنا کہ معذول ججوں کی بحالی کا ہے۔

دو ہزار چھ میں لاپتہ افراد کا ازخود نوٹس لینے کے بعد ہی معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کے صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ اختلافات شروع ہوئے جس کے بعد پورا ملک، وکلاء، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی حکومت مخالف تحریکوں کی زد میں آ گیا۔

آمنہ مسعود کا کہنا تھا کہ آئندہ قومی اسمبلی کو لاپتہ افراد کی بازیابی، مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور جاسوسی اداروں کے ان لوگوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا چاہیے جو دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی آڑ میں پاکستانی خاندانوں کو تکالیف پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر لاپتہ افراد کے لواحقین کو دعوت دے کر انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ایجنیسیوں کی حراست میں موجود تمام لوگوں کو رہا کروائیں گے۔

آمنہ مسعود کا مطالبہ تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو بھی لاپتہ افراد کے خاندانوں کے دکھ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس موقع پر لاپتہ افراد کے وکیل خالد خواجہ نے کہا کہ اگر آئندہ حکومت نے لاپتہ افراد کو بازیاب نہ کروایا تو وہ پہلے کی طرح اب بھی اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھائیں گے اور عالمی عدالتِ انصاف کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد