BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 January, 2008, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صفدر سرکی کی درخواستِ ضمانت

قوم پرست رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی(فائل فوٹو)
صفدر سرکی گزشتہ چند ماہ سے ژوب کی جیل میں ہیں
پاکستان کے صوبہ سندھ کے اسیر قوم پرست رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی کے وکلاء نے ان کی ضمانت پر رہائی کے لیے بلوچستان کے ضلع ژوب کی مقامی عدالت میں درخواست داخل کرا دی ہے۔

درخواست پر فیصلہ چار فروری کو ہونے کے امکانات ہیں۔

صفدر سرکی کے ایک وکیل محمد خان شیخ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ژوب کے ضلعی جج ظفر علی کھوسہ کی عدالت میں سینئر وکیل سلیم میمن اور انہوں نے ڈاکٹر صفدر کی درخواست ضمانت کی منظوری کے لیے بدھ کے روز دلائل دیئے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت میں صفدر سرکی کو بھی پیش کیا گیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ صفدر سرکی اتنے بیمار تھے کہ زیادہ بات بھی نہ کر سکے۔

سندھی قوم پرست رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی کو تقریباً اٹھارہ ماہ کی ’گمشدگی‘ کے بعد گزشتہ سال گیارہ اکتوبر کو کراچی کے قریب بلوچستان کے علاقے حب میں پولیس نے باقاعدہ گرفتار کیا تھا۔

صفدر سرکی امریکی شہری اور ٹیکساس کے رہنے والے ہیں۔انہیں حال ہی میں سندھی قوم پرست جماعت جئے سندھ کا دوبارہ بلامقابلہ مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا ہے۔اس سے قبل وہ تارکین وطن سندھیوں کی جماعت ورلڈ سندھی کانگریس کے چئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

ڈاکٹر صفدر سرکی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اٹھارہ ماہ سے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی غیر قانونی تحویل میں رہنے کے دوران صفدر سرکی کی آنکھوں پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ڈاکٹروں نے ان کی بینائی ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

واضع رہے کہ چند ہفتے قبل ژوب کی ضلعی عدالت نے ڈاکٹر صفدر سرکی کو آنکھوں کے علاج کے لیے کوئٹہ کے سرکاری ہسپتال منتقل کرنے کےاحکامات جاری کیے تھے مگر تاحال انہیں ژوب جیل سے کوئٹہ منتقل نہیں کیا گیا۔

سندھی قوم پرست رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی کو معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کی جانب سے از خود نوٹس لینے کے بعد ظاہر کر کے دوبارہ باقاعدہ گرفتار گیا تھا۔ انہوں نے حب کی مقامی عدالت میں اپنے پہلے عدالتی بیان میں کہا تھا کہ وہ لاپتہ نہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی غیر قانونی قید میں تھے۔ان کی آنکھوں پر سیاہ کپڑے کی پٹی باندھنےکے بعد اٹھارہ ماہ قبر جیسے اندھیرے قید خانوں میں رکھا گیا تھا۔

حب کی عدالت نے صفدر سرکی کی ضمانت منظور کر دی تھی مگر انہیں رہا نہیں کیا گیا تھا اور چوبیس گھنٹوں کے اندر حب کی مقامی عدالت کےجج کو تبدیل کر دیا گیا تھا۔ صفدر سرکی گزشتہ چند ماہ سے بلوچستان کے علاقے ژوب کی جیل میں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد