’قبر جیسے قید خانوں میں رکھاگیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کے قوم پرست رہنماء ڈاکٹر صفدر سرکی نے اپنے عدالتی بیان میں کہا ہے کہ وہ اٹھارہ ماہ سے لاپتہ نہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں تھے۔ ڈاکٹر صفدر سرکی جب پیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ حب عبدالقیوم بلوچ کی عدالت میں پیش ہوئے تو انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ انہیں چوبیس فروری دو ہزار چھ کو کراچی سے سادہ کپڑوں میں ملبوس خفیہ ایجنسیوں کےاہلکاروں نے غیر قانونی حراست میں لیا تھا۔ صفدر سرکی کے وکلاء کی ٹیم کے ایک رکن سہیل میمن وکیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکّل نے اپنے بیان میں عدالت کو آگاہ کیا کہ خفیہ ایجنسیوں نے انہیں کراچی، لاہور اور راولپنڈی کے خفیہ اور قبر جیسے تنگ اندھیرے قید خانوں میں بند رکھا اور سپریم کورٹ کی جانب سے لاپتہ افراد کےمقدمات کی سماعتوں کے بعد ہی انہیں رہا کرنےکا فیصلہ کیا گیا۔ جئے سندھ قومی محاذ نامی قوم پرست جماعت کے رہنماء نے عدالت کو بتایا کہ دوران حراست ان سے غیر قانونی سلوک روا رکھا گیا جس کے خلاف انہوں نے چار ماہ طویل بھوک ہڑتال کی۔ اپنے بیان میں انہوں نےکہا ہے کہ حراست کے عرصے میں سے ایک سال وہ فوجی ہسپتال میں زیر علاج بھی رہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کےمقدمات کی گیارہ اکتوبر کی سماعت سے قبل ڈاکٹر صفدر سرکی سمیت سندھ کےتین قوم پرست رہنماؤں کو خفیہ قید سے رہا کرنے کے بعد پولیس نے انہیں مختلف مقدمات میں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ حب نے صفدر سرکی کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں واپس گڈانی جیل بھیج دیا ہے۔ سرکی کیس کی آئندہ سماعت چوبیس اکتوبر کو حب کی مقامی عدالت میں ہوگی۔ |
اسی بارے میں سرکی سمیت تین لاپتہ ’مل گئے‘11 October, 2007 | پاکستان گرفتاریاں باقاعدہ بنائیں: عدالت11 October, 2007 | پاکستان سندھی رہنماء کی رہائی کے لیے پٹیشن22 August, 2007 | پاکستان ’لاپتہ افراد کی تلاش میں حکومت ناکام‘03 July, 2006 | پاکستان سندھی رہنما پولیس تحویل میں17 March, 2007 | پاکستان لاپتہ رہنماء اورگیارہ اکتوبر کا انتظار09 October, 2007 | پاکستان آصف بالادی کے اہلخانہ کا احتجاج14 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||