BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 March, 2008, 19:09 GMT 00:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ افراد: آرمی چیف کو الٹی میٹم

لاپتہ افراد کے اہل خانہ
پندرہ مارچ تک بازیاب نہ ہونے پر پہلا احتجاج کراچی میں ہوگا۔
پاکستان میں مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ نے اپنے عزیزوں کی بازیابی کے لیے چیف آف آرمی سٹاف کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ پندرہ مارچ تک لاپتہ کو افراد کو برآمد کیا جائے۔

انہوں نےاعلان کیا کہ پندرہ مارچ تک اپنے لاپتہ افراد کے بازیاب نہ ہونے پر ان کے عزیز اپنےاحتجاج کا دائرہ کار وسیع کردیں گے اور اس سلسلے میں پہلا احتجاج کراچی میں ہوگا جس میں وکلا، طلباء اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی شامل ہونگے۔

یہ اعلان لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم تحفظ حقوق انسانی کی سربراہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے دیگر گشمدہ افراد کے رشتہ داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پندرہ مارچ کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے اور اس تاریخ تک لاپتہ افراد کو، جن پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں، عدالتوں میں پیش کیا جائے اور ان کے ناموں کی فہرست بھی جاری کی جائے۔

پریس کانفرنس میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے اپنے لاپتہ رشتے داروں کی تصویریں اور ان کی بازیابی کے حوالے سے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ یہ لوگ ملک کے مختلف حصوں سے آئے تھے۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے مسئلہ کو اپنے ایجنڈے میں شامل کریں۔

عزیز
بازیابی کے لیے کُل جماعتی کانفرنس بلانے کے لیے اے پی ڈی ایم کی قیادت سے بات کی جائے گی

انہوں نے کہا ’لاپتہ افراد کی بازیابی کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے۔ اس لیے نومنتخب ارکان اسمبلی عدلیہ کی بحالی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے عالمی عدالت انصاف کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تمام اداروں اور عدل و انصاف کے لیے کام کرنے والی تمام تنظیموں سے رجوع کریں گی اور ان کا احتجاج اپنے پیاروں کی رہائی تک جاری رہے گا۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کُل جماعتی کانفرنس بلانے کے لیے اے پی ڈی ایم کی قیادت سے بات کی جائے گی۔

پریس کانفرنس میں موجود ایک رشتہ دار خالد خواجہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے نومنتخب ارکان اسمبلی کو آئین میں کسی قسم کی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے بقول جبری گمشدہ کیے گئے افراد کی برآمدگی کے معاملہ پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں اور اس پر قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

اخباری کانفرنس کے بعد لاپتہ افراد کے رشتہ داورں نے لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

نواز شریفنواز شریف سے اپیل
لاپتہ افراد کے عزیزوں کی نواز شریف سے ملاقات
بھوک ہڑتالی کیمپ’لاپتہ کی تلاش‘
گمشدہ بلوچوں کی بازیابی کےلیے بھوک ہڑتال
لاپتہ افرادگمشدہ افراد واپس
سرحد میں آٹھ افراد رہا ہوئے: انسانی کمیشن
شیرپاؤ’رابطہ کریں‘
لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں: آفتاب شیرپاؤ
مقدمہ بنام سرکار
’حکومت لاپتہ افراد کے ورثاء کو معاوضہ دے‘
احتجاجی دھرنا
’لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے‘
علامتی بھوک ہڑتالپراسرار طور پر لاپتہ
اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی بھوک ہڑتال
اسی بارے میں
صدر کے لیے معافی کی پیشکش
28 February, 2008 | پاکستان
عبوری آئین: شہری آزادیاں سلب
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد