صدر کے لیے معافی کی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چئرپرسن آمنہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ اگر حکومت خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں پانچ سو اکیس افراد کو رہا کر دے اور ان کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا کردیا جائے تو وہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو معاف کر دیں گے۔ جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چئرپرسن آمنہ جنجوعہ نے کہا کہ اگر لاپتہ ہونے والے افراد میں سے جو ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں کوئی ہلاک کردیا گیا ہے تو اس کا معاوضہ بھی ہلاک ہونے والے کے اہلخانہ کو دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے تو ڈیل کرتے ہیں لیکن ان لاپتہ ہونے والے افراد سے ڈیل کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ آمنہ جنجوعہ نے کہا کہ حکومت نے ایجنسیوں کی تحویل میں افراد کو رہا کرنے کی بجائے مزید افراد کو ان کے گھروں سے اٹھانا شروع کر دیا ہے اور گزشتہ ماہ کی انتیس تاریخ کو فیصل آباد کے دو نوجوانوں عبداللہ بن طاہر اور شاھبان کو ان کے گھروں سے اٹھا لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد پہلے انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے کام کرتے تھے۔ اغوا کیے جانے والے عبداللہ کے والد ڈاکٹر طاہر محمود نے جو کہ ایک سرکاری ملازم ہیں بتایا کہ انتیس اور تیس جنوری کی درمیانی شب بیس سے زائد پولیس اہلکار ان کے گھر میں گھس گئے اور اس وقت سوئے ہوئے اہلخانہ کو یرغمال بنا کر ان کے بیٹے عبداللہ کو اغوا کر کے لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے پولیس کے اعلٰی حکام سے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے رابطہ کیا تو افسران نے انہیں خاموش رہنے کا مشورہ دیا۔
عبداللہ کی دادی فاطمہ بی بی جو اس پریس کانفرنس کے دوران موجود تھی نے بتایا کہ اس کے دو بیٹے افغانستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگئے جبکہ اب ایجنسیوں کے اہلکار ان کے پوتے کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی انہیں ان کے بیٹوں کے ہلاک ہونے کے بدلے میں بارہ ہزار روپے سالانہ دیتی ہے لیکن گزشتہ دو سال سے انہوں نے کوئی پیسہ نہیں دیا۔ فاطمہ بی بی نے کہا کہ اس کا پوتا بی کام کا طالبعلم ہے اور گزشتہ ماہ حج کر کے واپس آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پوتے کو اغوا کیے ہوئے ایک ماہ ہوگیا ہے لیکن اس کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چلا کہ وہ کس حال میں ہے۔ فیصل آباد کے رہائشی ایک اور نوجوان شاھبان کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کی شادی کو ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوئے کہ ایجنسیوں کے اہلکار ان کے شوہر اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر نے کسی دور میں ایجنسیوں کے زیر کنٹرول جہاد کی تربیت حاصل کی تھی لیکن اب ان کا ایجنسیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ اپنے کاروبار پر توجہ دے رہے تھے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں تھے تاہم معزول کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جب ان لاپتہ ہونے والے افراد کے واقعات کا از خود نوٹس لیا تو متعدد افراد کو رہا کردیا گیا جبکہ ابھی تک ایجنسیوں کی تحویل میں سیکنڑوں افراد کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں درخواستوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ | اسی بارے میں ’صفدر سرکی کی حراست کےدو سال‘23 February, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد کی بازیابی کی اپیل22 February, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد: نواز شریف سے مدد کی اپیل03 February, 2008 | پاکستان صدر مشرف کا مشکل ترین سال26 December, 2007 | پاکستان پی پی پی کے اکتیس کارکن لاپتہ19 November, 2007 | پاکستان ایجنسیوں کے لیے’ قانونی کور‘:عاصمہ 11 November, 2007 | پاکستان لاپتہ آصف بالادی بازیاب07 November, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد حاضر کریں: چیف جسٹس29 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||