BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 November, 2007, 23:54 GMT 04:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی پی کے اکتیس کارکن لاپتہ

لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ
اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں میں لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کی پریس کانفرنس
سانحہ کارساز کے بعد سے پیپلزپارٹی کے لاپتہ کارکنوں کے اہلِ خانہ نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اٹھارہ اکتوبر کو بے نظیر بھٹو کی استقبالی ریلی میں ہونے والے بم دھماکوں میں ڈیڑہ سو کے لگ بھگ افراد ہلاک اور پانچ سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

پیپلزپارٹی لندن کے میڈیا انچارج حبیب جدون نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کے اکتیس کارکن اس بم دھماکے کے بعد سے لاپتہ ہیں، ان لاپتہ کارکنوں میں سے بیس کا تعلق کراچی کے مختلف علاقوں سے ہے جبکہ دیگر ملک کے دیگر شہروں سے ریلی میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

پیپلزپارٹی کے سابق رہنماء اور سرگرم کارکن فاروق اعوان بھی اس موقع پر موجود تھے بم دھماکے میں اُن کے کزن ہلاک اور چھوٹے بھائی تاحال لاپتہ ہیں۔ فاروق اعوان کا کہنا ہے کہ ’اُنہوں نے اپنے بھائی کی تلاش کے لیے فوج کے تربیت یافتہ کتوں سے مدد لی، اُن کتوں کو ہم نے گمشدہ بھائی کے کپڑے سنگھائے، کپڑوں کی بو کی مدد سے کتوں نے اُس کی بم دھماکے کے مقام سے ایک کلومیٹر تک نشاندہی کی جس سے شبہ کیا جا رہا ہے کہ میرے بھائی کو زخمی حالت میں وہاں سے کسی گاڑی میں ڈال کر لے جایا گیا ہے‘۔

لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اپنے لاپتہ پیاروں کی تصاویر اُٹھائے تھے

فاروق اعوان کا کہنا ہے کہ ہم نے ایدھی سینٹر میں رکھی نامکمل لاشوں کی گٹھڑیوں کا ڈی این اے ٹسٹ کرانے کے لیے حکام سے رابطہ کیا مگر وہ کہتے ہیں کہ جب تک مقدمہ درج نہیں ہوگا ڈی این اے نہیں کیا جاسکتا دوسری جانب پولیس مقدمہ درج کرنے کو تیار نہیں ہے۔

حبیب جدون نے کہا کہ ایک ماہ گزر جانے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے گمشدہ افراد کی تلاش کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے، اس پریس کانفرنس کا مقصد دنیا کو حکمرانوں کی بے حسی کا احساس دلانا ہے۔

پریس کانفرنس میں دیگر لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ بھی شریک تھے جو اپنے پیاروں کی تصاویر اُٹھائے تھے۔

اسی بارے میں
کراچی: دھماکوں میں 134 ہلاک
19 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد