BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 March, 2008, 14:27 GMT 19:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: صحافی چار ماہ سے لا پتہ

بلوچستان فائل فوٹو
نو فروری کی صبح نامعلوم افراد نے فوٹوگرافر صحافی ڈاکٹر چشتی مجاہد کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا
بلوچستان میں حالیہ چند دنوں میں دو صحافی لاپتہ ہو گئے تھے جن میں سے ایک واپس گھر پہنچ گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال نومبر میں لاپتہ ہونے والے صحافی جاوید لہڑی کے بارے میں ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔

صحافیوں کی حفاظت کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی کمیٹی، کوئٹہ پریس کلب، صحافتی تنظیموں، اخبارات اور جرائد کے مالکان نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔

لاپتہ ہونے والے تینوں صحافیوں کا تعلق کوئٹہ سے شائع ہونے والے اخبار آزادی سے ہے۔

ان صحافیوں میں خلیل کھوسو نصیر آباد سے انتخابات کے دوسرے روز غائب ہو گئے تھے لیکن تین روز پہلے واپس گھر پہنچ گئے ہیں۔

خلیل کھوسو نے بتایا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ انہیں کون لوگ اٹھا کر لے گئے تھے لیکن وہ یہ کہہ رہے تھے کہ جس طرح کی صحافت تم کرتے ہو ایسی صحافت پھر نہیں کرنا۔

حمید بلوچ ایران کی سرحد کے قریب واقع شہر تفتان میں صحافت کرتے ہیں اور تین روز سے غائب تھے۔ اب آزادی اخبار کے ایڈیٹر آصف بلوچ کے مطابق انہيں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے لیکن کس مقدمے کے تحت گرفتار کیا ہے وہ انہیں معلوم نہیں ہے۔

اس سے پہلے تین نومبر کو خضدار کالج سے جاوید لہڑی کو مبینہ طور پر سیکیورٹی اہلکار اٹھا کر لے گئے تھے جو تا حال لاپتہ ہیں۔

آصف بلوچ کے مطابق جاوید لہڑی کے بارے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ انہیں انسداد دہشت گردی کی جیل میں رکھا گیا ہے لیکن کس مقدمے کے تحت رکھا گیا ہے یہ نہیں معلوم ہے۔

کوئٹہ پریس کلب کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے بتایا ہے کہ بلوچستان کی صحافتی تنظیموں اور اخبار کے مالکان نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ صحافی اگر کوئی غلطی کرتے ہیں تو اس پر بات چیت کی جا سکتی ہے لیکن تشدد کی اجازت کبھی نہیں دی جا سکتی۔

صحافیوں کی حفاظت کے لیے قائم بین الاقوامی کمیٹی (کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس) نے صحافیوں کی اس طرح گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے نو فروری کی صبح نامعلوم افراد نے فوٹوگرافر صحافی ڈاکٹر چشتی مجاہد کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا جب کہ بارہ فروری کو عام انتخابات کے لیے دو امیدوراوں کے مشترکہ دفتر کے سامنے دھماکے سے پانچ صحافی زخمی ہو گئے تھے۔

مولانا فضل الرحمان’لاٹھی اور سانپ‘
’مرحلہ وار استعفوں کی بات مضحکہ خیز‘
مولانا فضل الرحمٰن ’تبدیلی کی کنجی‘
’مولانافضل الرحمن شدید تذبذب کا شکار ہیں‘
جسٹس(ر)وجیہہ الدینبراہِ راست چیلنج
وکلا کا صدر مشرف کو براہِ راست چیلنج ہے۔
جنرل مشرفانتخاب چھ اکتوبر کو
صدر جنرل مشرف اخبارات پر چھائے رہے
صدر کا حلقہ انتخاب
’مسئلہ انتخاب کا نہیں اخلاقی جواز کا ہے‘
اسی بارے میں
سیاسی تبدیلی یا محفوظ راستہ
27 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد