لاپتہ و اسیر: تربت میں خواتین مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر تربت میں خواتین نے اپنے قریبی رشتہ داروں کی گرفتاریوں اور گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ تربت میں خواتین نے جمعہ کو حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے اور کہا کہ سردار اختر مینگل سمیت تمام گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے۔ ان خواتین میں محمد اقبال، فیص محمد، واحد قمبر اور فضل کی رشتہ دار بھی شامل تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ ان چاروں افراد کو ایک سال پہلے آج ہی کے دن ایک فوجی کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے خواتین ونگ کی عہدیدار کریمہ بلوچ نے کہا ’اگر یہ افراد کسی مقدمے میں مطلوب ہیں تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔‘
کوئٹہ میں ایک پچانوے سالہ خاتون نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے گڈان یا چھونپڑی لگائی ہے جس میں ایک بکری اور مٹکا پڑا ہے۔ یہ ضعیف خاتون اپنے بیٹے عبدالودود رئیسانی کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’میرا بیٹا عبدالودود رئیسانی گزشتہ تین سال سے گرفتار ہے لیکن نہ تو اس کے بارے میں عدالت کوئی فیصلہ کر رہی ہے اور نہ ہی اسے رہا کیا جا رہا ہے۔‘ | اسی بارے میں لاپتہ افراد: آرمی چیف کو الٹی میٹم07 March, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد کی بازیابی کی اپیل22 February, 2008 | پاکستان لاپتہ رہنماء اورگیارہ اکتوبر کا انتظار09 October, 2007 | پاکستان دو بلوچ رہنما نو ماہ بعد منظر عام پر21 September, 2007 | پاکستان لاپتہ: حافظ باسط، علیم ناصرکی رہائی21 August, 2007 | پاکستان کوئٹہ میں خواتین کا احتجاج18 August, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد پر اب جھوٹے مقدمے:الزام05 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||