BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 March, 2008, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ و اسیر: تربت میں خواتین مظاہرہ

لاپتہ افراد فائل
سردار اختر مینگل سمیت تمام گرفتار افراد کو رہائی اور لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ
بلوچستان کے شہر تربت میں خواتین نے اپنے قریبی رشتہ داروں کی گرفتاریوں اور گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

تربت میں خواتین نے جمعہ کو حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے اور کہا کہ سردار اختر مینگل سمیت تمام گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے۔

ان خواتین میں محمد اقبال، فیص محمد، واحد قمبر اور فضل کی رشتہ دار بھی شامل تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ ان چاروں افراد کو ایک سال پہلے آج ہی کے دن ایک فوجی کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے خواتین ونگ کی عہدیدار کریمہ بلوچ نے کہا ’اگر یہ افراد کسی مقدمے میں مطلوب ہیں تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔‘

عدالت کوئی فیصلہ نہیں کر رہی
 ’میرا بیٹا عبدالودود رئیسانی گزشتہ تین سال سے گرفتار ہے لیکن نہ تو اس کے بارے میں عدالت کوئی فیصلہ کر رہی ہے اور نہ ہی اسے رہا کیا جا رہا ہے
پچانوے سالہ خاتون

کوئٹہ میں ایک پچانوے سالہ خاتون نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے گڈان یا چھونپڑی لگائی ہے جس میں ایک بکری اور مٹکا پڑا ہے۔ یہ ضعیف خاتون اپنے بیٹے عبدالودود رئیسانی کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا ’میرا بیٹا عبدالودود رئیسانی گزشتہ تین سال سے گرفتار ہے لیکن نہ تو اس کے بارے میں عدالت کوئی فیصلہ کر رہی ہے اور نہ ہی اسے رہا کیا جا رہا ہے۔‘

اسی بارے میں
کوئٹہ میں خواتین کا احتجاج
18 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد