پاکستان میں لاپتہ افرادمزید بڑھ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ افراد کی بازیابی کے کام کرنے والی تنظیم تحفظ انسانی حقوق کی سربراہ آمنہ مسعود کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام لا پتہ افراد کے حوالے سے ایک سیمینار سی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ آمنہ مسعود جن کے شوہر بھی لاپتہ ہیں کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی سے پہلے لاپتہ افراد کی تعداد چار سو پچاسی تھی جو گیارہ مارچ سنہ دو ہزار آٹھ کو پانچ سو پتیس ہوگئی ہے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف نے لاپتہ افراد کے عزیزوں سے ملاقات میں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان لاپتہ رشتہ داروں کو بازیاب کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح وکلا نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی ہے اس طرح ہم بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دے رہے ہیں۔
آمنہ مسعود نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ نئی حکومت جلد از جلد لاپتہ افراد کو بازیاب کرائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تو ان کا احتجاج اپنے پیاروں کی واپسی تک جاری رہے گا۔ ان کےبقول جسٹس افتحار محمد چودھری کو لاپتہ افراد کی برآمدگی کے مقدمہ کی سماعت کرنے کی پاداش میں عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ سیمینار سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری چودھری امین جاوید نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عدلیہ کی بحالی کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری دوبارہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت کسی بھی شہری کو گرفتار کرنے کے بعد چوبیس گھنٹے کے اندر متعلقہ عدالت میں پیش کرنا لازمی ہے اور ایسا نہ کرناقانون اور آئین کی کھلم کھلا خلاف وزری ہے۔انہوں نے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کو قانونی معاونت کی پیشکش بھی کی۔
سیمینار میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے شرکت کی اور اپنے رشتہ داروں کی جلد از جلد بازیابی کے لیے مدد کی اپیل کی۔ سیمینار میں لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ سیمینار کے اختتام پر شرکا نے عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک مظاہرہ بھی کیا جس میں وکلا اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ |
اسی بارے میں سرحد: آٹھ لاپتہ افراد کی واپسی24 May, 2007 | پاکستان سابق ڈی آئی جی عدالتی تحویل میں19 May, 2007 | پاکستان پرل کیس: اہم ملزم کا انتقال18 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||