BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 March, 2008, 17:41 GMT 22:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں لاپتہ افرادمزید بڑھ گئے

آمنہ مسعود
پاکستان میں مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ افراد کی بازیابی کے کام کرنے والی تنظیم تحفظ انسانی حقوق کی سربراہ آمنہ مسعود کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔

یہ بات انہوں نے اتوار کو سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام لا پتہ افراد کے حوالے سے ایک سیمینار سی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ آمنہ مسعود جن کے شوہر بھی لاپتہ ہیں کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی سے پہلے لاپتہ افراد کی تعداد چار سو پچاسی تھی جو گیارہ مارچ سنہ دو ہزار آٹھ کو پانچ سو پتیس ہوگئی ہے۔

ان کے بقول پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف نے لاپتہ افراد کے عزیزوں سے ملاقات میں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان لاپتہ رشتہ داروں کو بازیاب کرایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح وکلا نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی ہے اس طرح ہم بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دے رہے ہیں۔

ایک خاتون
لاپتہ افراد کے عزیزوں نے اپنے رشتہ داروں کی جلد از جلد بازیابی کے لیے مدد کی اپیل کی

آمنہ مسعود نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ نئی حکومت جلد از جلد لاپتہ افراد کو بازیاب کرائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تو ان کا احتجاج اپنے پیاروں کی واپسی تک جاری رہے گا۔

ان کےبقول جسٹس افتحار محمد چودھری کو لاپتہ افراد کی برآمدگی کے مقدمہ کی سماعت کرنے کی پاداش میں عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

سیمینار سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری چودھری امین جاوید نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عدلیہ کی بحالی کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری دوبارہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت کسی بھی شہری کو گرفتار کرنے کے بعد چوبیس گھنٹے کے اندر متعلقہ عدالت میں پیش کرنا لازمی ہے اور ایسا نہ کرناقانون اور آئین کی کھلم کھلا خلاف وزری ہے۔انہوں نے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کو قانونی معاونت کی پیشکش بھی کی۔

امین جاوید
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری چودھری امین جاوید

سیمینار میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے شرکت کی اور اپنے رشتہ داروں کی جلد از جلد بازیابی کے لیے مدد کی اپیل کی۔

سیمینار میں لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

سیمینار کے اختتام پر شرکا نے عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک مظاہرہ بھی کیا جس میں وکلا اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔

ایمنسٹیایمنسٹی رپورٹ
پاکستان میں گمشدگیوں اور ہلاکتوں پر تشویش
لاپتہ کی ’واپسی‘
ایک سال سے لاپتہ مصری خان منظرِ عام پر
اگلا مظاہرہ لاہور میں
لاپتہ افراد کے لیے مظاہروں کا نیا سلسلہ
احتجاجی دھرنا
’لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد