BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 March, 2008, 13:07 GMT 18:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آئی ایس آئی، آئی بی جواب دیں‘

خالد شیخ محمد
محکمہ داخلہ اور خارجہ کے سیکریٹریوں، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور انٹیلی جینس بیورو کو نوٹس جاری
سندھ ہائی کورٹ نے امریکہ میں گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار خالد شیخ محمد کی امریکہ منتقلی کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے اور آئی ایس آئی اور آئی بی کے سربراہان کو نوٹس جاری کئے ہیں۔

خالد شیخ محمد کی بہن مسمات مریم نے یہ پٹشین دائر کی ہے جس میں انہوں نے خالد شیخ کی امریکہ منتقلی کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افضل سومرو اور جسٹس پیرل شاہ پر مشتمل ڈویژن بینچ میں بدھ کو اس درخواست کی ابتدائی سماعت ہوئی اور شیخ خالد کے وکیل غلام قادر جتوئی نے دلائل دیئے۔

عدالت نے اس درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلیا اور دو اپریل کے لیے محکمہ داخلہ اور خارجہ کے سیکرٹریوں، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور انٹلی جنس بیورو کو نوٹس جاری کئے۔

ایڈووکیٹ غلام قادر جتوئی نے بتایا کہ انہوں نے اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ خالد شیخ محمد پاکستانی شہری ہیں اور انہیں کس قانون کے تحت پاکستان سے امریکہ منتقل کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق امریکہ خالد شیخ پر گوانتاناموے میں مقدمہ چلانا چاہتا ہے۔خالد شیخ کو واپس اپنے ملک بلایا جائے اور اگر ان پر الزامات ہیں تو ملکی عدالت میں پیش کیا جائے۔ اگر پاکستان حکومت ایسا نہیں کرسکتی ہے تو اقوام متحدہ سے مدد حاصل کی جائے۔

ایڈووکیٹ غلام قادر جتوئی کے کہنا ہے کہ سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، فرانس اور یمن کے خفیہ اداروں نے اپنی رپورٹوں میں یہ کہا ہے کہ خالد شیخ محمد گیارہ ستمبر واقعے میں ملوث نہیں ہیں اور پاکستان کی آئی ایس آئی غلط بیانی کر رہی ہے۔ ان رپورٹوں کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ باہر کی دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ وہ مجرم نہیں ہیں ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی سندھ ہائی کورٹ میں خالد شیخ محمد کی گمشدگی کے بارے میں ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی جو بعد میں واپس لے لی گئی۔

غلام قادر جتوئی ایڈووکٹ کا کہنا ہے کہ امریکی اخبارات میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ خالد شیخ امریکی تحویل میں ہیں اس لیے یہ پٹیشن واپس لی گئی تھی۔

مسمات مریم کے مطابق دو ہزار تین کو ان کے بھائی خالد شیخ اور بیٹے علی بن عبدالعزیز جبکہ دو ہزار چار کو عبدالکریم عرف ابومعصب اور عبدالقادر کو گرفتار کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکی محکمۂ دفاع یعنی پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ ایک عدالتی دستاویز کے مطابق خالد شیخ محمد نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کی منصوبہ بندی کا بھی اعتراف کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’میں ابتداء سے انتہا تک 11/9 کے حملوں کا ذمہ دار ہوں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد