BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 November, 2003, 15:17 GMT 20:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ اور پاکستان پر پہلا مقدمہ
گوانتاناموبے
محمد صغیر نے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے

گوانتاناموبے کے ایک سابق نظربند نے ایک پاکستانی عدالت میں امریکہ اور پاکستان کے خلاف ایک کروڑ ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے جس کی ابتدائی سماعت دسمبر کے تیسرے ہفتے میں ہونا طے پائی ہے۔

ایک پاکستانی شہری محمد صغیر کا کہنا ہے کہ اسے سن دو ہزار ایک میں افغانستان آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا اور القاعدہ و طالبان کے دوسرے مشتبہ افراد کے ساتھ گوانتانامو بے لے جایا گیا جہاں انہیں حراست کے دوران مسلسل ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان میں دائر ہونے والے اپنی نوع کے اس پہلے مقدمہ میں محمد صغیر نے پاکستانی وزارتِ داخلہ کو فریق بنایا ہے اور اسی بنا پر صغیر کے وکلاء کا کہنا ہے کہ پاکستانی عدالت اس مقدمے کی سماعت کی مجاز ہے۔

اسیروں کو وکلاء اور کسی عدالت تک رسائی حاصل نہیں

مقدمہ کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ گوانتاناموبے کی جیل میں مدعی کی حراست غیر قانونی تھی اور اس دوران اس کے ساتھ کیا جانے والا سلوک انتہائی غیر انسانی تھا۔

محمد صغیر نے اپنی درخواست میں افغانستان سے اپنی گرفتاری کے حالات اور گوانتاناموبے کی کیمپ جیل میں خود کو پہنچائے جانے والے جسمانی تشدد اور ذہنی اذیت کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک سال سے زائد عرصے تک انہیں جیل کے ایک ایسے سل میں قید رکھا گیا جو اس طرح کے پنجروں کی مانند تھا جو جانوروں کو قید رکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس دوران اسے ممکنہ حد تک بد ترین سلوک کا نشانہ نبایا گیا اور متعدد افراد نے بار بار یہی ایک بات معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اس کا اسامہ بن لادن یا القاعدہ کے سلسلے سے کیا تعلق ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ ان کا اسامہ بن لادن یا ان کی تنظیم القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں تو انہیں حکام سے عدم تعاون کا مرتکب تصور کیا گیا اور ذہنی تکالیف دی گئیں۔

صغیر نے کہا ہے کہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک قید رکھنے کے بعد امریکی حکام نے انہیں واپس پاکستان بھیج دیا جہاں انہیں مزید کچھ دن تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

گوانتاناموبے کے چاروں طرف کڑی سکیورٹی ہے

مدعی نے کہا ہے کہ انہیں بلا وجہ حراست اور حراست کے دوران جن تکالیف سے گزرنا پڑا ہے ان کی بنا پر وہ ایک کروڑ ڈالر ہرجانے کے تقاضے اور ادائیگی کو منصفانہ تصور کرتے ہیں۔

عدالت درخواست کی سماعت فسمبر کے تیسرے ہفتے میں کرے گی اور اس سماعت کے دوران اس بات کا تعین بھی کرے گی کہ اس درخواست کی سماعت اس کے دائرۂ اختیار میں ہے یا نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد