’آئی ایس آئی نے بیٹا اغوا کر لیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کی عدالت میں ’لو میرج‘ کرکے کراچی آنے والے جوڑے کو پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار اٹھا کر لےگئے ہیں۔ لڑکے کے والد نے الزام لگایا ہے کہ ایک کرنل کی بیٹی سے محبت کی شادی کرنے کی پاداشت میں ان کے بیٹے کو آئی ایس آئی نے اغوا کر لیا ہے، جبکہ بہاولپور پولیس نے انہیں لڑکی کو طلاق دینے کا مشورہ دیا ہے۔ لاہور کے رہائشی غلام محمد صدیقی نے بتایا کہ ان کے بیٹے آصف صدیقی اور ان کی بہو سندس کو انیس اکتوبر کو کراچی کے سائٹ ایریا سے اہلکار اٹھا کر لے گئے۔ غلام محمد صدیقی نے بتایا کہ حکومتی اہلکارروں نے پہلے لڑکے کو اٹھایا بعد میں لڑکی کو لےگئے۔اس دروران لڑکی چلاتی رہی کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ غلام محمد کے مطابق ان کا دوسرا بیٹا سائٹ تھانے پر اغوا کا مقدمہ دائر کروانے گیا تو پولیس نے بتایا کہ لڑکے اور لڑکی کو آئی ایس ائی والے اٹھا کر لےگئے ہیں، ان کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کیا جائےگا۔ محمد آصف کراچی میں ایک فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا اوراس کی انٹرنیٹ پر بھاولپور کی رہائشی لڑکی سندس سے دوستی ہوگئی، جس سے والدین لاعلم تھے۔ غلام محمد کے مطابق ان کو اس حقیقت کا وقت علم ہوا جب دونوں راولپنڈی کی ایک عدالت میں بیاہ رچانے کے بعد ان سے ملنے لاہور آئے۔ انہوں نے اپنے بیٹے سے لڑکی کے بارے میں دریافت کیا تو لڑکی نے نکاح نامہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے شادی کرلی ہے۔ غلام محمد کے مطابق لڑکی نےانہیں بتایا کہ اس کی آصف سےگزشتہ ڈیڑھ سال سے دوستی ہے، اس کے پاس گھر میں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ موجود نہیں تھا مگر وہ انٹرنیٹ کیفے سے چیٹنگ کرتی تھی۔ بیٹے کے لیے پریشان غلام محمد نے بتایا کہ انہوں نے لڑکی کو کہا کہ تمہارے والد کے پاس چلتے ہیں، قانونی شادی تو ہوگئی ہے رسمی شادی بھی ہوجائے اس سے خاندانوں کی عزت بحال ہوجائےگی، مگر لڑکی یہ کہے کر چلنے سے انکار کیا کہ ہم نے جو کرنا تھا کرلیا اب تو میں بےعزت ہوں فیملی میں نہیں جاسکتی اگر آپ جائیں گے تو آپ کی بھی بےعزتی ہوگی۔ غلام محمد کے مطابق اس کے بعد ان کا بیٹا آصف اور بہو سندس کراچی چلے گئے جہاں سے ان کی اغوا کی اطلاع آئی ۔ غلام محمد بیٹے کی معافی تلافی کے لیے بھاولپور بھی گئے ا
انہوں نے آصف اور سندس کے نکاح نامہ اور حلفیہ بیان دیکھاتے ہوئے بتایا کہ غلام محمد نے بتایا کہ انہیں اے ایس پی نے کہا کہ اگر کرنل صاحب اپنی بیٹی کی طلاق مانگیں، تو کیا آپ دے دیں گے، جس کے جواب میں انہوں نے کہا اگر لڑکی کرنل کے ساتھ آ کر یہ مطالبہ کرے تو پھر میں دلوا دونگا۔ بہیگی ہوئی آنکھوں سے بزرگ غلام محمد نے کہا کہ میں نے کرنل کو خط لکھ کر تسلیم کیا کہ میرے بیٹے نے غلطی کی ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ کی منت سماجت اور جرگہ کر کے اس غلطی کو رشتے میں تبدیل کردوں اس میں ہم دونوں خاندانوں کی بہتری ہے۔ مگر ان کا کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تو مجھ یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ میرا بیٹا زندہ بھی ہے یا نہیں، مجھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس کے پاس جاؤں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم کو بھی لیٹر لکھے کر اس صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں ISI بمقابلہ بوڑھا بریگیڈیئر04 July, 2006 | پاکستان ’انجینیئر عتیق ہمارے پاس نہیں‘07 July, 2006 | پاکستان آئی ایس آئی، براہ راست بھرتیاں 26 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||