BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 July, 2008, 11:22 GMT 16:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آئی ایس آئی کے طالبان سے روابط‘
سی آیی اے کے نائب ڈائریکٹر نے اسی ماہ پاکستانی افسران سے ملاقات کی۔
اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی تفتیشی ایجنسی ( سی آئی اے) کے ایک اعلی اہلکار نے آئی ایس آئی اور قبائلی علاقوں میں سرگرم طالبان کے درمیان روابط کے شواہد حکومت پاکستان کے اعلی عہدیداران کو پیش کرکے ان سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اخبار نے امریکی فوجی اور دفاعی عہدیداران کے حوالے سے کہا ہے کہ سی آئی اے کے نائب ڈائریکٹر سٹیفن کاپس کے اس دورے سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستانی ایجنسیوں اور افغانستان میں تشدد میں اضافے کے لیے ذمہ دار عسکریت پسندوں کے درمیان روابط پر زیادہ سخت موقف اختیار کر رہا ہے۔

اخبار کے مطابق ان میں عسکریت پسند رہنما مولوی جلال الدین حقانی بھی شامل ہیں۔

اس سال کے اوائل میں امریکی فوج نے پاکستانی افواج پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ مولانا حقانی کے نٹورک کو تباہ کرنے کے لیے کارروائی کرے۔

لیکن حکومت پاکستان کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے واشنگٹن میں نامہ نگار برجیش اپادھیائے سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کو پروپگنڈا قرار دیا۔ مسٹر ملک نے کہا کہ سی آئی اے نےحکومت پاکستان کو کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا کہ ’یہ پرانے الزامات ہیں، ہم نے امریکی عہدیداران سے مل کر ان کے خدشات دور کر دئے ہیں۔‘

مسٹر حقانی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلےکو بہتر بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا اس وقت اس خبر کے شائع ہونے سے لگتا ہے کہ بعض حلقے نہیں چاہتے کہ وزیر اعظم گیلانی کا دورہ امریکہ کامیاب ہو۔

ایک امریکی عہدیدار نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ’سی آئی اے کے نائب ڈائریکٹر کا پیغام بالکل واضح تھا۔ انہوں نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ ہمیں ان روابط کا علم ہے، نہ صرف حقانی کے ساتھ بلکہ دوسرے عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی، اور ہمارے خیال میں آپ اسے ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کر سکتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ مزید کارروائی کریں۔‘

امریکہ طالبان سے بات چیت کے حق میں نہیں ہے۔

اخبار کے مطابق یہ ملاقات اس بات کا عندیہ ہوسکتی ہے کہ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان تعلقات بگڑ رہے ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ حکومت پاکستان باقاعدہ طور پر القاعدہ کو مدد فراہم کر رہی ہے، لیکن اس بات پر ضرور کافی عرصے سے تشویش ہے کہ پاکستان کے حقانی گروپ سے روابط ہیں اور حقانی گروپ کے القاعدہ سے۔‘

یہ رپورٹ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کے بعد شائع کی گئی ہے جس میں مسٹر گیلانی نے امریکہ سے کہا تھا کہ وہ قبائلی علاقوں میں’ یک طرفہ‘ طور پر کارروائی نہ کرے۔

منگل کو ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے مسٹر گیلانی نے کہا کہ آئی ایس آئی کے طالبان سے روابط کا الزام ’ناقابل یقین۔ یہ ممکن نہیں کہ ہم ایسا ہونے دیں۔‘

حکومت پاکستان نے وقفہ وقفہ سے قبائلی علاقوں میں طالبان کے ساتھ معاہدوں کے ذریعہ امن قائم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن امریکہ اس پالیسی کے حق میں نہیں ہے۔

’سکیورٹی بحال‘
حکام کے مطابق سوات کا کنٹرول سنبھال لیا گیا
طالبان (فائل فوٹو)’حتمی معاہدہ جلد‘
جنگ و جدل سے کچھ حاصل نہیں: مقامی طالبان
طالبان سےمعاہدہ
پاکستان کی سرزمین سے طالبان کے حملے؟
کچھ نہیں بدلے گا
فوجی کارروائی سے کوئی تبدیلی نہیں ہوگی
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد