وزیر اعظم کا دورہ اور امریکی میڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے پہلے امریکی دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان پاکستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر سخت تناؤ موجود ہے لیکن امریکی ذرائع ابلاغ نے پاکستانی وزیر اعظم کے دورے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بااثر امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے پیر کے اپنے شمارے میں امریکہ سے پاکستان کی موجودہ حکومت کو مضبوط بنانے اور پاکستان کی ذمہ دارانہ فوجی اور خاص طور غیر فوجی امداد جاری رکھنے اور حال ہی میں دو امریکی سینٹروں کی طرف سے مجوزہ قانون سازی جلد کرنے کی پرزور سفارش کی ہے۔ ’نیویار ک ٹائمز‘ نے ’پاکستان کو امداد‘ کے عنوان اور ’پاکستان کے ساتھ نئی شروعات‘ کے عنوان سے شائع والے اپنے اداریے میں لکھا ہے ’جناب گیلانی کے ووٹر عوام صدر بش کی جانب سے ان کے سابقہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی حمایت پر نالاں ہیں جبکہ صدر بش کو، جنہوں نے پرویز مشرف کی حمایت جاری رکھی ہوئي ہے، انہیں وزیر اعظم گیلانی کی طالبان اور القاعدہ، جو پاکستان کو ایک محفوظ جنت بنائے ہوئے ہیں، کے ساتھ نمٹنے والے ان کے عزائم پر شدید شکوک و شبہات ہیں۔ یعنی کہ پاکستانی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان کئي ملاقاتوں کے ادوار کے دوران کئی مشکل مسائل اٹھیں گے۔ اخبار کے مطابق صدر بش پاکستان سے تعلقات کی تشکیل نو اس یقین کے ساتھ چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کی جمہوری حکومت اور اسکی انتہا پسندی سے لڑنے کی صلاحیت دونوں کا مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستانی عوامی رہنماؤں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے عوام کو ایک مؤثر اور ایماندارنہ حکومت فراہم کریں اور یہ کہ وہ پاکستان کے عوام کو بتائیں کہ انتہا پسندی پاکستان کےلیے بھی خطرہ ہے اور اس کے خلاف جنگ صرف امریکہ کی جنگ نہیں۔ نیویارک ٹائمز کے اداریے نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کو قبائلی علاقوں میں ترقی کے کاموں، عوامی خدمات اور اقتصادی اصلاحات کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے اور تب ہی وہ قبائلی عوام کی حمایت سے القاعدہ اور طالبان سے بہتر طور پر نمٹ سکتی ہے- اخبـار نے کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان تب ہی حاصل کر سکتے ہیں جب کانگریس پاکستان کوگزشتہ ماہ سینیٹرز جوزف بائيڈن اور رچرڈ لوگر نے جو پاکستان کو لمبی مدت کےلیے غیر فوجی امداد بڑھانے اور فوجی امداد پر کڑی چوکسی کا نظام قائم کرنے کی بات کی تھی اب وائٹ ہاؤس اس کی زبردست حمایت کرے۔ نیویارک ٹائمز نے مزید لکھا ہے کہ حال ہی میں کانگریس میں پاکستان کو دی جانیوالی فوجی امداد کے شاہانہ اور غیر ذمہ دارانہ طور پر استعمال اور یہ بھی کہ پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کو جدید بنانے پر خرچ کون کرے گا اور غیر فوجی اقتصادی امداد کے درمیان توازن قائم کرنے پر زبردست بحث ہوئی تھی۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ایف سولہ طیارے اعلیٰ پائے کی ٹیکنالوجی ہے اور جن کا مقصد بھارت کو ڈرانا ہے اور ان طیاروں میں طالبان کی سرکشی کو دبانے اور ان سے لڑنے کی صلاحیت نہیں اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ طیاروں پر خرچ ہونے والے فنڈز کو طالبان سے لڑنے کیلیے رات کی تاریکی میں دیکھنے والے چشموں اور مزید کوبرا ہیلی کاپٹر خریدنے کیلیے اضافی ایمرجنسی فنڈ قائم کیا جائے اور اسی لیے سینیٹرز جوزف اور لوگر کی مجوزہ قانوناسازی جلد سے جلد مکمل اور منظور کی جائے۔ نیویارک ٹائمز کے ادرایے نے امریکہ کو پاکستان میں ہیپاٹائیٹس بی کے مرض کے علاج اور اس پر کنٹرول کیلیے نیٹ ورک قائم کرنے کیلیے فوری امداد مطالبہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان کو بمشکل ایک سو ملین ڈالرز کی ضرورت ہے۔ اخبار کے مطابق تیس ملین ڈالر میں پاکستان میں ہیپاٹائيٹس بی کو روکنے کیلیے پبلک ہیلتھ لیبارٹریز نیٹ ورک قائم کیا جا سکتا ہے۔ اپنے اداریے کے آخر میں ’نیویارک ٹائمز‘ نے لکھا ہے کہ پاکستان کو سماجی اور اقتصادی میدان میں امداد اور انسداد دہسشتگردی کیلیے فوجی امداد سے امریکہ پاکستان دو طرفہ تعلقات کی پھر سے ایک نئی شروعات ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے مقبول پبلک ریڈیو نیشنل پبلک ریڈیو یا این پی آر نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے امریکی دورے کو پاکستان کیلیے مشکل قراردیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم اور صدر بش اسوقت ملاقات کر رہے ہیں جب بش انتظامیہ کی جھنجھلاہٹ میں رو ز بروز اضافہ ہو رہا کہ پاکستان اپنے قبائلی علاقوں میں مقیم شدت پسندوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے سے کترا رہا ہے۔ این پی آر نے معروف پاکستانی صحافی اور لکھاری احمد رشید کا لاہور سے انٹرویو بھی نشر کیا جس میں انہوں نے کہا کہ بش انتظامیہ اور امریکہ کا دورہ کرنے والے سویلین وزیر اعظم کے درمیان طالبان کے پاکستان میں اثر و رسوخ پر معاملات بہت ہی مشکل نظر آتے ہیں کیونکہ وزیر اعظم امریکہ اور طالبان سے ان کی حکومت کیطرف سے امن سمجھوتے پر قائل کرنے آئے ہیں جبکہ بش انتظامیہ اس پر انہیں سخت اقدامات کرنے کو کہہ رہی ہے۔ احمد رشید نے کہا کہ یہاں پاکستان کی سویلین حکومت اور فوج میں فرق یہ ہے کہ پاکستان کی سیویلین حکومت بہت ہی کمزور اور بٹی ہوئی ہے جبکہ فوج بہت طاقتور اور منظم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیویلین وزیر اعظم دہشتگردی کےخلاف جنگ میں نہ تو فوج کی طرف سے اورنہ ہی صدر مشرف کی طرف سے امریکہ کو ضمانتیں دینے کی پوزیشن میں ہیں۔ احمد رشید نے امریکی پبلک ریڈیو کے پروگرام ’ڈے ٹو ڈے‘ میں پاکستان کے سیویلین وزیر اعظم اور حکومت کی، بقول انکے، کمزوری کی ایک واضح مثال دیتے ہوۓ کہا کہ وزیر اعظم کے غیر ملکی دورے کے دوران ملک کی طاقتور انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کو سیویلین کنٹرول میں دینے کا اعلان ہوا اور پھر چند گھنٹوں بعد وہ اعلان واپس لے لیا گیا۔ اور اسی طرح موجودہ حکومت کیخلاف حزب مخالاف، طالبان اور انتہاپسند وں کو باتیں کرنے کا موقع مل گیا- کچھ روز قبل این پی آر نے پشاور سے پاکستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر ونفوز پر ایک رپورٹ تیار کی تھی جس میں بتایا تھا کہ طالبان پشاور کی یونیورسٹی اور ہسپتال تک بھی رات کو پہنچ جاتے ہیں اور وہ عورتوں کو پردہ کرنے اور مردوں کو داڑھیاں رکھنے کی تنبیہ کرتے دیکھے گئے ہیں۔ جبکہ نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کے شمالی علاقے پارہ چنار اور اس کے ارگرد کے علاقوں سے طالبان کی فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہوکر شیعہ آبادیوں کی نقل مکانی کرکے پشاور اور دوسرے علاقوں میں پناہ لینے کا بتایا تھا اور اس کے متاثرین کے انٹرویوز بھی شائع کیے تھے۔ امریکی اخبار نے عراق کے شیعہ رہنما آیت اللہ سیستانی کا بیان کا ذکر کیا جس میں بقول ’نیویارک ٹائمز‘ کے، پاکستان میں موجود نمائندے کے توسط سے اپیل کا بھی لکھا تھا کہ سیستانی نے تمام پاکستانی شیعوں سے پارا چنار اور اس کے ارگرد کے متاثرہ شیعوں کی مدد کرنے کا کہا تھا۔ | اسی بارے میں طاقت کا استعمال بھی ضروری: امریکہ28 July, 2008 | پاکستان ’پاکستان اب بھی مضبوط اتحادی ہے‘28 July, 2008 | پاکستان امریکہ یکطرفہ حملے نہ کرے: پاکستان29 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||