BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 July, 2008, 01:30 GMT 06:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یکطرفہ حملے نہ کریں: پاکستان
گیلانی اور بُش
’صدر بُش کی سوچ ہے کہ دونوں ممالک کو ساتھ مِل کر اور کوشش کرنے کی ضرورت ہے‘
امریکہ میں پیر کو پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دورے کے پہلے روز امریکی صدر جارج بُش کے ساتھ ان کی ملاقات میں موضوع گفتگو بننے والا سب سے اہم مسئلہ ’دہشتگردی‘ تھا۔ صدر بُش نے جہاں پاکستان کے ساتھ مِل کر ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ جاری رکھنے کی بات کی وزیر اعظم گیلانی نے بھی انہیں یقین دلایا کہ پاکستان اس مسئلے پر پوری طرح سنجیدہ ہے اور یہ اس کی اپنی جنگ ہے۔

واشنگٹن میں ہمارے نامہ نگار برجیش اپادھیائے نے بتایا کہ وزیر اعظم گیلانی نے ایک ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو میں کہا کہ امریکہ یکطرفہ حملے نہیں کرے اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیر کو ہونے والے حملے میں امریکہ کا ہاتھ ہے تو یہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ پیر کو میزائیل کے ایک حملے میں چھ لوگ مارے گئے تھے۔

توقعات کے برعکس
 وزیر اعظم گیلانی کے دورے سے پہلے امریکی ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینک کہہ رہے تھے کہ شاید انہیں بے حد سخت الفاظ سننے پڑ سکتے ہیں لیکن کیمروں کے سامنے صدر بُش نے جو تصویر پیش کی اس میں تعریفیں تھیں، ساتھ مل کر کام کرنے کی بات تھی، پاکستانی جمہوریت پر اعتبار کی بات تھی اور خود مختاری کی بات تھی
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اور قبائلی علاقوں کے لوگ امن پسند ہیں اور صرف چند عناصر ہیں جو امن و امان کی صورتحال خراب کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں پاکستان سے امریکہ کے لیے براہ راست پروازوں، تجارت بڑھانے، پاکستان اور افغانستان کے علاقوں میں تعمیرِ نو زون (ری کنسٹرکشن اوپورچیونٹی زون)، ’دہشت گردی‘ سے نمٹنے میں مدد کے لیے پاکستان کو مزید سازو سامان فراہم کرنے کی بات ہے۔ لیکن اس بیان میں قبائلی علاقوں میں سمجھوتے کی کوششوں یا امریکہ کی طرف سے یکطرفہ حملوں کی بات نہیں کی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے یہ ضرور کہا کہ صدر بُش کی سوچ ہے کہ دونوں ممالک کو ساتھ مِل کر اور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم گیلانی کے دورے سے پہلے امریکی ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینک کہہ رہے تھے کہ شاید انہیں بے حد سخت الفاظ سننے پڑ سکتے ہیں لیکن کیمروں کے سامنے صدر بُش نے جو تصویر پیش کی اس میں تعریفیں تھیں، ساتھ مل کر کام کرنے کی بات تھی، پاکستانی جمہوریت پر اعتبار کی بات تھی اور خود مختاری کی بات تھی۔

امریکہ کے صدر جارج بُش کی طرف سے پاکستان کی خودمختاری کی حمایت، پاکستان کو اناج کی خریداری کے لیے اگلے دو سالوں میں ساڑھے گیارہ کروڑ ڈالر کی امداد اور پاکستان کی بہتری کے لیے کانگریس کی کوششوں میں ساتھ دینے کا وعدہ۔ دیکھا جائے تو پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے امریکہ کے دورے کا پہلا دن کامیاب مانا جا سکتا ہے۔ لیکن صدر بُش نے پاکستان کی خودمختاری کی بات اس روز کی جب پاکستان میں میزائیل کے ایک حملے میں چھ لوگ مارے گئے اور ایک بار پھر امریکہ پر انگلی اٹھی۔

 وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی امریکی یاترا
وزیراعظم کا دورہ اور بدلے ہوئے حالات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد