BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 July, 2008, 12:04 GMT 17:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان اب بھی مضبوط اتحادی ہے‘
گیلانی اور بُش
پاکستان مضبوط اتحادی ہے جہاں جمہوریت خوب پنپ رہی ہے: بُش
قبائلی علاقوں میں طالبان سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر اختلافات کے باوجود امریکی صدر جارج بش نے پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے کہا ہے کہ وہ اب بھی پاکستان کو ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں مضبوط اتحادی مانتے ہیں۔

مسٹر بش وہائٹ ہاؤس میں مسٹر گیلانی سے ملاقات کے دوران نامہ نگاروں سے بات کر رہے تھے۔

وزیر اعظم نے صدر بش کو یقین دلایا کہ پاکستان شدت پسندی کے خلاف لڑائی کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے عزم پر قائم ہے۔ ’یہ جنگ پاکستان کے خلاف ہے، اور( دہشت گردوں کے خلاف) ہم اپنے مفاد کے لیے لڑیں گے۔‘

صدر بش پہلے بھی کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے مقامی طالبان کے آزادی سے افغانستان آنے جانے پر فکرمند ہیں جہاں وہ نیٹو افواج پر حملے کرتے ہیں۔

ملکی مفاد
 دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ بیرونی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ ملکی مفاد میں لڑی جا رہی ہے
گیلانی
اتوار کی ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ مسٹر گیلانی نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ طالبان کی نقل و حرکت روکنے کے لیے وہ جوکچھ کرسکتے ہیں، کریں گے۔

صدر بش نے کہا کہ پاکستان ایک’مضبوط اتحادی‘ ہے جہاں جمہوریت خوب پنپ رہی ہے اور یہ کہ امریکہ’پاکستان کی خود مختاری کی حمایت‘ کرتا ہے۔

وہائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کے مطابق امریکہ نے پاکستان کو آئندہ دو برسوں میں غذائی اشیا کی شکل میں ایک سو پندرہ ملین ڈالر کی امداد کی پیش کش بھی کی ہے۔

پاکستان اور امریکہ کےدرمیان اس بارے میں اختلافات سامنے آئے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔

پاکستان نے قبائلی علاقوں میں کبھی تو فوجی کارروائی کے ذریعہ طالبان کی سرکوبی کی کوشش کی ہے تو کبھی ان کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کیے ہیں لیکن حالات پر قابو پانے میں بظاہر زیادہ پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد مسٹر گیلانی پہلی مرتبہ امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ روانگی سے قبل وزیراعظم نے کہا تھا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ بیرونی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ ملکی مفاد میں لڑی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے اور ملک کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت قبائلی علاقوں میں صرف اُن افراد سے مذاکرات کر رہی ہے جو ہتھیار پھینک کر حکومت کی عملداری کو تسلیم کر رہے ہیں۔

 وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی امریکی یاترا
وزیراعظم کا دورہ اور بدلے ہوئے حالات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد