BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 July, 2008, 11:13 GMT 16:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیراعظم کا دورۂ امریکہ اور بدلے ہوئے حالات

 یوسف رضا گیلانی
یوسف رضا گیلانی کے دورۂ امریکہ کی نوعیت مختلف ہے
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی دعوت پر اپنے پہلے سرکاری دورے پر امریکہ کے لئے سنیچر کو روانہ ہوگئے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کئی دہائیوں کے اُتار چڑھاؤ، ایک دوسرے سے بداعتمادی اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے اس قسم کے دورے ہمیشہ اہم ثابت ہوئے ہیں۔

اکثر تو امریکی اہلکار ہی پاکستان کے دورے کرتے رہتے ہیں لیکن پاکستانی اہلکار بھی واشنگٹن یاترا کو حکومتی فرائض میں سے سب سے اہم فرض تسلیم کرتے ہوئے امریکی یاترا ضرور کرتے ہیں۔ تاہم اس تازہ دورے کی اہمیت کئی وجوہات کی وجہ سے ماضی سے مختلف ہے۔

پاکستان میں برس ہا برس امریکہ جن فوجی آمروں کی مدد سے علاقے میں اپنی من پسند پالیسیاں چلاتا رہا وہ صورتحال اب قدرے تبدیل ہوگئی ہے۔ ایک مرتبہ پھر امریکہ بھی فوجی حکمرانوں سے نہیں منتخب نمائندوں سے تعلقات استوار کرنے کے اشارے دے رہا ہے۔ اس بارے میں ڈیموکریٹ سینیٹر جوزف بڈن کی جانب سے سویلین حکومت کی امداد میں تین گنا اضافے کا مجوزہ بل قابل ذکر ہے۔

لیکن کئی مبصرین کے خیال میں امداد میں اضافے کا تاثر محض پاکستانی حکمرانوں کی بظاہر خام خیالی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو آئندہ پانچ برسوں میں امریکہ پاکستان کو جو امداد دینا چاہتا ہے وہ صرف ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ بنتی ہے جبکہ امریکہ اسرائیل کو اس سے کہیں زیادہ ڈھائی اور مصر کو ڈیڑھ ارب فراہم کر رہا ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کی اہمیت کیا مصر جیسی ہی ہے؟ امریکہ کو یہ دوغلہ پن ترک کرنا ہوگا۔

لیزا کرٹس، جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کی ماہر، کہتی ہیں کہ ’اس دورے سے امریکہ پاکستانی عوام کو ایک اہم سگنل بھیجے گا کہ وہ اس کی جمہوری حکومت کو ایک موقع دے رہا ہے۔‘

دورے کی اہمیت مختلف
 پاکستان میں برس ہا برس امریکہ جن فوجی آمروں کی مدد سے علاقے میں اپنی من پسند پالیسیاں چلاتا رہا وہ صورتحال اب قدرے تبدیل ہوگئی ہے۔ ایک مرتبہ پھر امریکہ بھی فوجی حکمرانوں سے نہیں منتخب نمائندوں سے تعلقات استوار کرنے کے اشارے دے رہا ہے۔ اس بابت ڈیموکریٹ سینیٹر جوزف بڈن کی جانب سے سویلین حکومت کی امداد میں تین گنا اضافے کا مجوزہ بل قابل ذکر ہے۔
صدر بش کی جانب سے اس دورے کی دعوت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ چھ ماہ بعد ایک نئے صدر کے منتخب ہونے تک پاکستان میں نئی حکومت سے تعلقات استوار کرنے کا انتظار نہیں کر سکتا۔ وزیر اعظم سے تاہم اس دورے کے دوران دونوں امریکی صدارتی امیدوار بھی ملیں گے جس سے ایک ابتدائی رابطہ اور تعلق استوار کرنے میں مدد ملے گی۔ امریکہ کا ایک مطالبہ ہوگا کہ قبائلی علاقوں کو القاعدہ اور طالبان سے پاک کیا جائے چاہے اس کے لئے کتنی ہی طاقت استعمال کرنی پڑے۔

دوسری جانب پاکستان میں بھی تبدیلی کی ہوا کافی چل چُکی ہے۔ اس کے اثرات ابھی ظاہر نہیں ہوئے تو یہ ایک الگ بحث ہے۔ نئی حکومت اور اس کی شدت پسندی سے نمٹنے کی نئی پالیسی پک کر تیار ہے۔ اس پالیسی کو گھی کا تڑکا گزشتہ بدھ حکمراں اتحادی جماعتوں کے وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں لگایا گیا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ اس کھانے کو چکھنےکو ابھی کوئی بھی تیار نہیں۔ پاکستان کے اندر پھر بھی اس کی شاید طلب ہو لیکن امریکہ تو اسے چکھنے کو ہرگز تیار نہیں۔ امریکی حکام نے اب بھی ’مزید اقدامات‘ کی رٹ لگا رکھی ہے۔

وزیر اعظم ایک ایسے وقت امریکہ جا رہے ہیں جب خود ملکی معاملات پر ان کی حکومت کی گرفت مضبوط ہونا باقی ہے۔ انہوں نے معزول ججوں کی بحالی اور صدر کے مواخذے جیسے مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو بظاہر نمبر ون ترجیح دی ہے۔ لیکن ماہرین کے خیال میں احتجاجی تحریکوں کے خاتمے اور معاشی حالات میں بہتری کے بغیر دہشت گردی سے نمٹنا مشکل ثابت ہوگا۔

امریکی یاترا پر جانے سے قبل حکومت نے حزب اختلاف کی تجویز پر پارلیمان سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے تو قومی اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن اتحادی جماعتوں کی آشیرباد یقینا ان کے لئے مذاکرات میں بڑا ہتھیار ثابت ہوگی۔

سیاسی و عسکری تجزیہ نگار طلعت مسعود اس تاثر سے متفق دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ اس دورے سے وزیر اعظم کی شخصیت پر اچھا اثر پڑے گا۔ ’عوام کو محسوس ہوگا کہ امریکہ اب ان کے نمائندے سے بھی بات کرنے کو تیار ہے۔ اب امریکہ صدر مشرف جیسی ایک شخصیت سے ہٹ کر جمہوری اداروں سے رابطے قائم کرنا چاہتا ہے۔‘

نو برسوں کی خرابی
 اگر امریکہ ایک آمر کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنی پسند کے مطابق چلانے کے لئے کھلی چھٹی دے سکتا ہے تو اسے چاہیے کہ نئی جمہوری حکومت کو بھی مناسب وقت اور موقع فراہم کرنا چاہیے۔ نو برسوں کی خرابی نو دنوں میں درست نہیں کی جاسکتی۔
نئے پاکستانی حکمراں امریکی حکام سے اسی عہد کے طلبگار ہوں گے کہ وہ اب پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے میں مدد دے گا۔ صدر بش کے آٹھ سالہ دور میں امریکہ اپنی مجبوریوں کی وجہ سے ایک فوجی آمر پر ہی توجہ مرکوز کیے رکھا جس سے پاکستان میں مسائل حل نہیں مزید بڑھے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر ملک میں عمومی اتفاق رائے تو پہلے سے موجود ہے۔ طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ ’لوگ چاہتے ہیں کہ مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے، ان علاقوں کی ترقی ہونی چاہیے اور عسکری آپشن کا محدود استعمال ہونا چاہیے۔ فوجی آپشن کو سرفہرست رکھنے سے ہم نے دیکھا ہے کہ معملات حل نہیں ہوئے، بگڑے ہیں۔‘

لیکن کیا یہ نئی پالیسی امریکی حکام کے لئے قابل قبول ہوگی؟ امریکہ تو شدت پسندوں کے خلاف ہمیشہ ڈنڈے کے استعمال کا خواہاں رہا ہے۔ البتہ طلعت مسعود کہتے ہیں کہ پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ پالیسی ہمارے لئے کتنی کامیاب ثابت ہوتی ہے۔ ’میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس پالیسی کی کامیابی امریکی خوشنودی کے لئے نہیں ہمارے اپنے مفاد میں کتنی ہے کیونکہ ہم خود اس بدامنی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔‘

یوسف رضا گیلانی کا دورۂ امریکہ میں زیادہ وقت وہاں کے حکام کو پاکستانی سرزمین پر براہ راست حملے سے باز رہنے کی تلقین میں بھی گزرے گا۔ اس میں انہیں زیادہ دقت اس وقت پیش آئے گی جب امریکی حکام ان سے امن مذاکرات کے شروع ہونے کے بعد سرحد پار افغانستان میں حملوں میں اضافے کی بات کریں گے۔

لیکن اگر امریکہ ایک آمر کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنی پسند کے مطابق چلانے کے لئے کھلی چھٹی دے سکتا ہے تو اسے چاہیے کہ نئی جمہوری حکومت کو بھی مناسب وقت اور موقع فراہم کرنا چاہیے۔ نو برسوں کی خرابی نو دنوں میں درست نہیں کی جاسکتی۔

امریکی حکمت عملی
امریکی توجہ افغانستان سے پاکستان پر
قبائلی ملک ملِک کہاں گئے؟
قبائلی علاقوں کے ملِک ڈھونڈنے سے نہیں ملتے
طالبان کا اثر و رسوخ
ہنگو: طالبان کے رسوخ اور جرائم میں اضافہ
طالبان کا ’قبضہ‘
باجوڑ میں ڈسپنسری، سکول پر طالبان ’قابض‘
گھیرا تنگ ہو رہا ہے؟
بیت اللہ نے آئی ایس آئی مخالف بات پہلے نہیں کی
مقامی طالبان(فائل فوٹو)ناکام حکمت عملی
’طاقت کی بجائے بات چیت سے بات نہیں بنی‘
حامد کرزئیطالبان مخالف جنگ
بد اعتمادی،الزام تراشی کی فضا کا فائدہ کس کو؟
اسی بارے میں
مزید اقدامات کریں: رائس
25 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد