BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 July, 2008, 10:04 GMT 15:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہمند لڑائی: بیت اللہ کا نوٹس

طالبان(فائل فوٹو) طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود
فائل فوٹو: طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود
تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے مہمند ایجنسی میں طالبان کے دوگروپوں میں تصادم میں ایک گروہ کے چند افراد کی ہلاکت کے واقعہ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے مقامی طالبان کے امیر عمر خالد سے وضاحت طلب کی ہے۔

تحریک کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ بیت اللہ محسود نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایک وفد بھیج دیا ہے جو مہمند ایجنسی میں سنیچر کو ہونے والی ہلاکتوں کی تفتیش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا عمر نے بھی اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ دونوں گروہوں کے مابین اختلافات ختم کرانے کے لئے افغان طالبان کا بھی ایک وفد کام کر رہا ہے جو مہمند ایجنسی میں پہلے سے ہی موجود تھا کہ یہ واقعہ پیش آیا۔

ترجمان کے مطابق گزشتہ روز کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے شاہ خالد گروپ کے نائب امیر قاری عبید اللہ نے چند دن قبل بیت اللہ محسود سے ملاقات کی تھی اور ’جہاد‘ کے سلسلے میں تحریک طالبان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر پاکستان اور افغانستان کے تمام ’مجاہدین‘ تنظیمیں انتہائی افسردہ ہیں۔

 گزشتہ روز مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان پاکستان کے علاقائی امیر عمر خالد اور سلفی طالبان کے نام سے مشہور شاہ خالد گروپ کے حامیوں کے مابین جھڑپ میں سولہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ملی تھی۔
مولوی عمر کے بقول ماضی میں چند حکومتی ادارے مجاہدین تنظیموں کے مابین اختلافات پیدا کرتے رہے ہیں لیکن حالیہ واقعے میں تاحال ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں تحقیق ضرور کی جا رہی ہے۔

گزشتہ روز مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان پاکستان کے علاقائی امیر عمر خالد اور سلفی طالبان کے نام سے مشہور شاہ خالد گروپ کے حامیوں کے مابین جھڑپ میں سولہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ملی تھی۔

عمر خالد کے ترجمان ڈاکٹر اسد نے دعویٰ کیا تھا کہ اس لڑائی میں شاہ خالد گروپ کے امیر اور نائب امیر سمیت پندرہ حامیوں کو قتل کیا گیا ہے جبکہ تحریک طالبان کا ایک کمانڈر نثار بھی مارا گیا ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ شاہ خالد گروپ کے دو مراکز اور ایک سو بیس ساتھیوں کو بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔

ادھر خود کو شاہ صاحب گروپ کا ترجمان ظاہر کرنے والے خطاب نامی ایک شخص نے گزشتہ روز پشاور میں صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا عمر ان کے امیر المومنین ہیں اور ان کا گروپ ملا عمر ہی کے کہنے پر افغانستان میں کفر کے خلاف جہاد کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے گروپ نے پاکستان میں کبھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ترجمان نے ملاعمر اور دیگر جہادی تنظیموں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کمانڈر شاہ خالد اور دیگر ساتھیوں کی ہلاکت کا نوٹس لیں اور اس واقعہ کی تحقیقات کی جائے۔

اسی بارے میں
مہمند میں جھڑپ، سات ہلاک
26 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد