مہمند ایجنسی، امن کمیٹی کا قیام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکومتی اہلکاروں اور سرکاری املاک پر حملوں کی روک تھام کے لیے قبائلیوں نے ڈیڑھ سو افراد پر مشتمل ایک امن کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ کمیٹی طالبان کے خلاف اور نہ ہی انکی جانب سے حکومت پر ہونے والے حملوں کا حصہ بنے گی۔ اس کمیٹی کا اعلان جمعہ کی صبح مہمند ایجنسی کے حلیم زئی قبیلے کے تقریباً دو سو سے زائد مشران پر مشتمل ایک جرگے کے دوران کیا گیا۔ جرگے میں شامل ملک عبدالرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ امن کمیٹی کا مقصد حلیم زئی قبیلے کے علاقے سے حکومتی اہلکاروں اور سرکاری املاک پر ہونے والے ممکنہ حملوں کی روک تھام کے علاوہ علاقے سے مبینہ’جرائم اور فحاشی و عریانی‘ کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دو دن قبل بعض نامعلوم افراد نے رات کے وقت صدر مقام غلنئی پر راکٹ حملوں سے حملہ کیا تھا جس کے بعد پولٹیکل حکام نے حلیم زئی قبیلے پر اجتماعی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے ان سے واقعہ میں مبینہ ملوث افراد کو حکومت کے حوالے کرنے اور آئندہ اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے اپنے طور پر اِقدامات کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ملک عبدالرحمن کے بقول انہیں رات کی تاریکی کے باعث خود بھی ان حملوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کا پتہ نہیں چل رہا ہے اور اس سےسلسلے میں جب طالبان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی حملوں سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق قبیلے کی مشران نے اس قسم کے واقعات روکنے کے لیے جو امن کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں شامل ڈیڑھ سو افراد مبینہ’شرپسندوں‘ پر نظر رکھنے کے لیے علاقے کا گشت کریں گے۔اس کے علاوہ مقامی لوگوں کے تنازعات ان کی مرضی سے جرگے یا شریعت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن کمیٹی طالبان کے خلاف اور نہ ہی انکی جانب سے حکومت پر ہونے والی کاروائی کا حصہ بنے گی ۔ان کے بقول طالبان ان کے بھائی ہیں اور وہ حکومت پر حملوں کے سِوا ان کے ہرقسم کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ مہمند ایجنسی میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم چند دن قبل حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے بعد بھی وہاں پر تشددکی وارداتوں کا سلسلہ نہیں تھما ہے۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ علاقے میں جاری تشدد پر قابو پانے کے لیے مقامی افراد نے امن کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’نئے امن معاہدے پرانوں سے بہتر‘02 June, 2008 | پاکستان امریکی ایڈمرل کی حکام سےملاقاتیں 04 June, 2008 | پاکستان القاعدہ پسپائی پر ہے : سی آئی اے30 May, 2008 | پاکستان حکومت نواز طالبان پر حملے کریں گے02 June, 2008 | پاکستان کرم ایجنسی دھماکے میں چار ہلاک03 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||