BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کے خلاف قبائل متحد ہو گئے

طالبان
قبائل نے سرکاری چیک پوسٹوں پر طالبان کا قبضہ ختم کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے
قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں اورکزئی قبائل نے باہمی دشمنیاں ختم کرتے ہوئے مقامی طالبان کے خلاف متحد ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور غیر مقامی عسکریت پسندوں کو علاقے سے باہر نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

قبائل نے حکومت کو سرکاری چیک پوسٹوں پر طالبان کا قبضہ ختم کرانے اور جرائم پیشہ افراد سے علاقہ خالی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جمعہ کو اپر اورکزئی ایجنسی کے مرکز ڈبوری میں اورکزئی کے گیارہ قبیلوں کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں علماء کرام اور مشران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک سرکردہ قبائلی ملک اور ہنگو کے ضلعی ناظم حاجی خان افضل نے تصدیق کی کہ قبائل نے علاقے میں امن وامان بحال کرنے کے لیے مقامی طالبان کے خلاف اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائل نے ’ اسلام زورنہ‘ پر اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت کوئی قبیلہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں لڑے گا بلکہ تمام معاملات مشاورت سے طے کئے جائیں گے۔ اور اس نقط پر بھی متحد ہوگئے ہیں کہ ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے سرگرمیوں پر پابندی لگا دی جائی گی تاکہ ہنگو میں طالبان کے خلاف جاری آپریشن اورکزئی ایجنسی تک نہ پھیل جائے۔

اتفاق
 قبائل نے’ اسلام زورنہ‘ پر اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت کوئی قبیلہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں لڑے گا بلکہ تمام معاملات مشاورت سے طے کئے جائیں گے۔

ضلعی ناظم ہنگو حاجی خان افضل نے وضاحت کی ہے کہ اورکزئی ایجنسی میں قبائل نے قبیلوں کی سطح پر تو آپس میں اتفاق کر لیا ہے تاہم تمام قبائل کا گرینڈ جرگہ آئندہ چند دنوں میں پوری ایجنسی کی سطح پر ہوگا جس میں طالبان کے خلاف اتحاد پر بات ہوگی۔

خان افضل نے بتایا کہ اس جرگہ میں اورکزئی کے اٹھارہ میں سے گیارہ قبیلوں نے شرکت کی تاہم جرگہ میں شیعہ قبائل شامل نہیں تھے۔

جرگہ میں شرکت کرنے والے ایک اور قبائلی ملک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اورکزئی ایجنسی میں موجود غیر مقامی طالبان کو کہا گیا ہے کہ وہ علاقے کے امن کی خاطر یہ ایجنسی چھوڑ دیں۔

انہوں نے کہا کہ جرگہ نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ ایجنسی میں سرکاری چیک پوسٹوں پر طالبان کا قبضہ چھڑا لیا جائے گا اور وہاں خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں اس سال جنوری کے مہینے میں بھی ملک ذلمن شاہ نامی ایک سرکردہ قبائلی رہنما کی سربراہی میں قبائل نے طالبان کے خلاف لشکر کشی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد میں ملک ذلمن شاہ پر ایک نامعلوم بم حملے کے بعد انہوں نے طالبان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد