ہنگو:ایف سی اہلکاروں کی تدفین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں سنیچر کو طالبان کے حملے میں ہلاک ہونے والے سترہ اہلکاروں میں سے پندرہ کی نماز جنازہ ایف سی ہیڈکوارٹرز ہنگو میں ادا کر دی گئی ہے۔ مقامی طالبان نے سترہ سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں مذاکرات کے بعد اتوار کو مقامی مشران پر مشتمل جرگے کے حوالے کی تھیں۔ جرگے کے رکن اور ہنگو سے رکن صوبائی اسمبلی مفتی سید جنان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مقامی طالبان نے زرگیری میں مارے جانے والے اہلکاروں کی لاشیں ان کے حوالے کی ہیں۔ ہنگو میں تعینات ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ روز ہلاک ہونے والے فرنٹیر کانسٹیبلری کے پندرہ اہلکاروں کی لاشیں ایک مقامی جرگہ کے توسط سے اتوار کی دوپہر ہنگو لائی گئیں جہاں ایف سی ہیڈ کوارٹرز میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نماز جنازہ میں ضلعی انتظامیہ، اعلی سرکاری اہلکاروں اور مقامی عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد اہلکاروں کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔ ایف سی کے سترہ اہلکار ہنگو میں دوآبہ سے متصل نریاب کے شنہ وڑئی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر مسلح طالبان کی فائرنگ کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔ اس واقعے میں بیس اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے جبکہ طالبان نے بھی اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ مقامی صحافی حسن محمود کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ڈسٹرکٹ ایف سی آفیسر کریم آف ارمڑ اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر عبدالمنان بھی شامل تھے۔ حسن محمدو کے مطابق زرگیری میں سارے علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے جہاں انہوں نے مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں بھی قائم کر رکھی ہے۔ صحافی کے مطابق زرگیری اور آس پاس کے علاقوں سے لوگوں نے بڑی تعداد میں محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی بھی کی ہے اور نوے فیصد علاقہ خالی ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ زرگیری گاؤں اورکزئی ایجنسی کی سرحد پر واقع ہے اور اس علاقے میں پولیس کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے اسے ’ نو گو ایریا‘ کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف دوآبہ شہر میں اتوار کو چوتھے روز بھی کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے علاقے میں تمام اہم شاہراہیں اور سڑکیں بند ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق مرکزی ٹل پارہ چنار سڑک گزشتہ چار دنوں سے بند ہے جس کے باعث لوگوں کو ہنگو، کوہاٹ اور پشاور جانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ضلع ہنگو میں حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب ہنگو شہر سے تقریباً پینتیس کلومیٹر دور واقع دو آبہ میں سکیورٹی فورسز نے سات طالبان کو گرفتار کیا تھا اور طالبان نے کئی گھنٹے تک پولیس سٹیشن کا محاصرہ کرنے کے بعد انتیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک بٹالین فوج بھی طلب کر لی تھی۔ | اسی بارے میں ہنگو: 17 سکیورٹی اہلکار ہلاک12 July, 2008 | پاکستان اہلکاروں کی ہلاکت کی دھمکی11 July, 2008 | پاکستان ہنگو: کرفیو نافذ، سرچ آپریشن شروع10 July, 2008 | پاکستان باجوڑ: دو ہلاک، متعدد زخمی11 July, 2008 | پاکستان عسکریت پسندی میں اضافہ، ملِکوں کی پسپائی11 July, 2008 | پاکستان امریکی گولہ باری، آٹھ فوجی زخمی11 July, 2008 | پاکستان ’فاٹا میں پہلے سے زیادہ شدت پسند‘11 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||