BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 July, 2008, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد حکومت کو بیت اللہ کی دھمکی

بیت اللہ محسود
’اب طالبان کے خلاف کارروائیاں سرحد حکومت کے کہنے پر ہو رہی ہیں‘
تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے سرحد حکومت پر ہنگو اور سوات میں مقامی طالبان کے خلاف کاروائیوں کا الزام لگاتے ہوئے پانچ دنوں میں صوبائی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر سرحد حکومت نے طالبان کے امیر بیت اللہ محسود کے بیان پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان امن اور مزاکرات نہیں چاہتے تو پھر حکومت کو مجبوراً ان کے خلاف کاروائی کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مہلت ختم ہونے کی صورت میں صوبائی حکومت میں شامل اہلکاروں کے خلاف کاروائیاں شروع کی جاسکتی ہے۔

جمعرات کو بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے بتایا کہ طالبان شوری اجلاس ہوا ہے جس میں ان کے امیر بیت اللہ محسود کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا ہے۔

عوامی مینڈیٹ
 اس سوال پر کہ صوبائی حکومت تو ووٹ لیکر اقتدار میں آئی ہے اور انہیں حکومت میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ تو عوام کریگی، ترجمان نے کہا کہ صوبائی حکومت امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے لہذا اسے فوری طورپر مستعفی ہونا چاہیے

ترجمان نے بیان میں خصوصی طور پر عوامی نیشنل پارٹی کا نام لے کر الزام لگایا کہ یہ پارٹی لوگوں کو اس بات پر دھوکہ دے رہی ہے کہ وہ اس خطے میں امن چاہتے ہیں حالانکہ ان کے مطابق یہی پارٹی مذاکرات کے بالکل مخالف ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے طالبان کے خلاف کاروائیوں کےلیے مرکز سے مدد طلب کی اور ان کے خلاف سوات اور ہنگو میں کارروائی شروع کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے امن کے نام پر لوگوں سے ووٹ لئے لیکن اب ان کے مطابق حکومت امن قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔

اس سوال پر کہ صوبائی حکومت تو ووٹ لیکر اقتدار میں آئی ہے اور انہیں حکومت میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ تو عوام کریگی، ترجمان نے کہا کہ صوبائی حکومت امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے لہذا اسے فوری طورپر مستعفی ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’پہلے صدر مشرف کے دور حکومت میں ان کی کارروائیاں فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف تھی لیکن نئی حکومت کے وجود میں آنے کے بعد اب طالبان کے خلاف کارروائیاں سرحد حکومت کے کہنے پر ہو رہی ہیں جس میں وزیراعلیٰ، وزیر داخلہ، وزیراطلاعات شامل ہیں۔

ادھر سرحد حکومت نے طالبان کے امیر بیت اللہ محسود کے بیان پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان امن اور مزاکرات نہیں چاہتے تو پھر حکومت کو مجبوراً ان کے خلاف کاروائی کرنا ہوگی۔

صوبائی وزیر اطلاعات اور سرحد حکومت کے ترجمان میاں افتخار نے حسین نے رابط کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ اگر حقیقت میں بیت اللہ محسود نے یہ بیان دیا ہے تو اس پر ان کو انتہائی افسوس اور دکھ ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ’ ہماری حکومت تو امن ، جرگہ اور عدم تشدد کے سیاست پر عمل پیرا ہے۔ اگر ایسی حکومت کے خلاف طالبان کاروائی کرنا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے وہ امن ، مزاکرات اور افہام تفہیم نہیں چاہتے۔‘

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طالبان امن کا راستہ نہیں اپنائیں گے اور تشدد پر اترائیں گے تو حکومت کو پھر مجبوراً امن بحال کرنے کےلئے کاروائیاں کرنا ہوگی۔

اسی بارے میں
قبائل کو طالبان کی دھمکی
27 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد