مہمند میں جھڑپ، سات ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےقبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ مقامی طالبان اور ایک مسلح گروہ کے مابین جھڑپ میں ایک عورت سمیت سات افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین طالبان جنگجو بھی بتائے جاتے ہیں۔ مہمند ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی شام ورسک ڈیم کے قریب واقع مچنی کے علاقہ میں پیش آیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق کچھ روز قبل عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے مچنی گاؤں میں ایک اور مسلح گروہ کے غفار نامی شخص کو مبینہ طورپر اغواء کیا تھا جس کے بعد دونوں گروہوں کے مابین شدید کشیدگی چلی آرہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق جمعہ کی شام کے وقت مقامی طالبان کے کچھ جنگجو مچنی گاؤں میں ایک دعوت میں شرکت کر کے واپس جا رہے تھے کہ مخالف مسلح گروہ نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے دونوں کے مابین شدید لڑائی شروع ہوگئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فریقین نے ایک دوسرے پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے کیے جس میں سات افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون کے علاوہ تین طالبان جنگجو بھی شامل ہیں۔ ایک قبائلی ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ مبینہ مقامی طالبان نے اس گھر پر قبضہ کرلیا ہے جہاں سے مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح گروہوں کے مابین فائرنگ کا سلسلہ تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہا۔ واضح رہے کہ مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان اور مسلح گروہوں کے مابین کئی بار جھڑپیں ہوچکی ہیں جس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں مہمند ایجنسی جھڑپ، سات ہلاک14 January, 2008 | پاکستان مہمند ایجنسی میں دو ہلاک 15 January, 2008 | پاکستان مہمند ایجنسی: پانچ افراد ہلاک03 March, 2008 | پاکستان مہمند کارروائی، ایک ہلاک09 March, 2008 | پاکستان مہمند ایجنسی میں دائی کی ہلاکت18 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||