مہمند ایجنسی میں دائی کی ہلاکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ بعض نامعلوم افراد نے سول ڈسپنسری میں تعینات ایک دائی کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے۔ مہمند ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ سید احمد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل صافی کے بحاوتہ علاقہ میں واقع سول ڈسپنسری میں تعینات دائی کو جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو بعض نامعلوم مسلح افراد نےگولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق خاتون کے سر اور جسم کے بائیں حصے میں گولیاں ماری گئی ہیں۔ ان کے بقول ضلع مردان سے تعلق رکھنے والی خاتون گزشتہ ایک سال سے بحاوتہ کے سول ڈسپنسری میں بطور دایہ تعینات تھیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ مبینہ قاتلوں کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ مہمند ایجنسی میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران طالبان کی سرگرمیوں میں مبینہ اضافہ کے بعد خواتین کے قتل کیے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سے قبل سکول کی ایک استانی کو مارا گیا تھا جبکہ گزشتہ سال ستمبر میں مبینہ طور پر’جسم فروشی’ میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک خاتون کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔تاہم ان واقعات کی ذمہ داری کسی نےبھی قبول نہیں کی تھی۔ دو اپریل کو بھی مقامی طالبان نے مہمند ایجنسی کے بائیزئی کے علاقہ میں گھر سے بھاگ جانے والے ایک جوڑے کو مبینہ طور پر’زنا’ میں ملوث ہونے کے الزام میں سنگسار کیے جانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ | اسی بارے میں طالبان کی’غازی اسلام کانفرنس‘14 April, 2008 | پاکستان ’سنگسارشدہ جوڑے کی لاشیں واپس‘02 April, 2008 | پاکستان قبائلی علاقے: عام شہری کی ہلاکتیں14 March, 2008 | پاکستان مہمند کارروائی، ایک ہلاک09 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||