BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 April, 2008, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کی’غازی اسلام کانفرنس‘

ترنگزئی کا مزار طالبان کے قبضے کے بعد
طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ کانفرنس کے انعقاد کےلئے انہیں حکومت سے اجازت کی ضرورت نہیں
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے مہمند ایجنسی میں جنگ آزادی کے ایک ہیرو حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار پر دو روزہ ’ غازی اسلام‘ کانفرنس منعقد کرنے کااعلان کیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ’اس سے قبل حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار پر عرس کا انعقاد ہوتا تھا جس میں فحاشی اور موسیقی کی محفلیں ہوتی تھیں لیکن اب علاقے میں ایسا کچھ نہیں ہوگا۔‘

ان کےمطابق طالبان کی طرف سے مزار پر قبضے کے بعد اب پورا علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ کانفرنس’جہاد‘ سے متعلق ہوگی، جس میں حاجی صاحب ترنگزئی کے اسلام اور قوم کےلیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جائےگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک جہادی اور روحانی اجتماع ہوگا جس میں علماء کرام اور جنگ آزادی کے ہیرو کے کارناموں کے علاوہ جہاد کے حقائق سے بھی لوگوں کو آگاہ کیا جائےگا۔

مولوی عمر نے کہا کہ چونکہ حاجی صاحب کا لقب غازی اسلام تھا، اس لیے کانفرنس کو بھی اسی نام سے موسوم کیاگیا ہے۔ ان کے مطابق کانفرنس میں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو شرکت کرنے کی اجازت ہوگی اور یہ اجتماع عام ہوگا۔

فحاشی اور موسیقی پر پابندی
 اس سے قبل حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار پر عرس کا انعقاد ہوتا تھا جس میں فحاشی اور موسیقی کی محفلیں ہوتی تھیں لیکن اب علاقے میں ایسا کچھ نہیں ہوگا
مولوی عمر

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ’ کانفرنس کے انعقاد کےلیے انہیں حکومت سے اجازت کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایک مذہبی اجتماع ہوگا اور اس طرح کے اجتماعات کا انعقاد ملک میں پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اجتماع میں طالبان رہنما بھی شرکت کریں گے تاہم انہوں نے شرکت کرنے والے کسی اہم عسکریت پسند کمانڈر کا نام نہیں بتایا۔

واضح رہے کہ حاجی صاحب ترنگزئی کا مزار مہمند ایجنسی کے غازی آباد کے علاقے میں واقع ہے اورگزشتہ سال جولائی کے ماہ میں مہمند ایجنسی کے مقامی طالبان نےاس مزار اور اس سےملحقہ مسجد پر قبضہ کرکے اس پر لال مسجد کا بورڈ نصب کیا تھا۔ جس کے بعد مہمند ایجنسی میں مقامی عسکریت پسندوں نے اپنی کارروائیوں کا آغاز کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد