ترنگزئی کے مزار قبضہ برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں جنگ آزادی کے ہیرو حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار اور اس سے ملحق مسجد پر مقامی طالبان کا قبضہ پیر کو نویں روز بھی قائم ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسئلے کے پرامن حل کے لیے مقامی جرگوں کے ذریعے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ مہمند ایجنسی سے ملنےوالی اطلاعات کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ مسلح افراد نے مزار اور مسجد میں تعینات نقاب پوش افراد کے تعداد میں کمی کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد میں دارالعلوم اسلامیہ حاجی صاحب ترنگزئی کے نام سے ایک مدرسہ بھی قائم کردیا گیا ہے جہاں پر درس وتدریس شروع کرنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق مزار اور اطراف کے علاقے میں حالات نارمل ہوگئے ہیں، تاہم مسلح افراد کا مسجد اور مزار پر قبضہ بدستور برقرار ہے۔ ادھر جرگے کے ایک رکن ملک زرین نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی ’مجاہدین‘ کے ساتھ بات چیت پیش رفت ہورہی ہے اور اس سلسلے میں پیر کی شام کو بھی ایک جرگہ طلب کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک ہونے والی بات چیت سے تمام فریق مطمئن ہیں۔ ادھر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں نے مزار اور مسجد مرحلہ وار طریقے سے خالی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم مسلح افراد سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ واضح رہے کہ نو روز قبل خود کو مقامی طالبان کہنے والے ستر کے قریب نقاب پوشوں نے مہمند ایجنسی کے علاقے غازی آباد میں واقع حاجی صاحب ترنگزئی اور ملحقہ مسجد پر قبضہ کرکے وہاں پر لال مسجد کا بورڈ لگا دیا تھا۔ |
اسی بارے میں ترنگزئی کے مزار پر قبضہ جاری01 August, 2007 | پاکستان ’لال مسجد مشن جاری رکھیں گے‘31 July, 2007 | پاکستان مہمندایجنسی: مزار پرلال مسجد کابورڈ29 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کےارد گرد خاردار تار28 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: اصل بحران تو جاری ہے12 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||