طالبان کی نئی تنظیم کا قیام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں خفیہ طور پرسرگرم مقامی طالبان کے تقریباً چھ مختلف گروپوں نے متحد ہو کر ’تحریک طالبان‘ نامی ایک نئی تنظیم تشکیل دینے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے خود کو مقامی طالبان کا ترجمان ظاہر کرنے والے ابو نعمان کا کہنا تھا کہ پیر کی صبح کو علاقے میں مبینہ طور پر سرگرم چھ گروپوں کے رہنماؤں کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں تقریباً پچیس کے قریب دینی علماء اور طالب کمانڈروں نے شرکت کی۔ ان کے بقول اجلاس کے دوران ایک سولہ رکنی شوریٰ تشکیل دی گئی اور تنظیم کو ’تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی‘ کا نام دیکر عمر خالد کو امیر جبکہ مولانا گل محمد کو نائب امیر مقرر کردیا گیا۔ امیر عمر خالد نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں کے دوران علاقے میں رونما ہونے والے مبینہ دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں مقامی طالبان کو ملوث کیا گیا ہےجو بقول ان کے سراسر بے بنیاد الزام ہے۔ ان کے مطابق’ آئندہ طالبان پر لگنے والے الزامات کو روکنے اور علاقے میں مشترکہ اور منظم کارروائیاں کرنے کے لیے اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ایجنسی میں سرگرم طالبان کے تمام گروپوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی انتظامیہ اور خفیہ ایجنسیاں علاقے میں غیر ملکی یا دیگر افراد کو لا کر ان سے ایسی کارروائیاں کرواتے ہیں جس سے علاقے میں طالبان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ان کے مطابق اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ آئندہ صرف ان غیر ملکیوں یا دیگر علاقوں سے آئے ہوئے مبینہ ’جہادیوں ، کو علاقے میں آنے کی اجازت ہوگی جنکو مقامی طالبان نے یہاں رہنے کی باقاعدہ اجازت دی ہو۔ مقامی طالبان کے سربراہ عمر خالد نے پہلی مرتبہ گزشتہ دنوں ایک استانی اور دو دیگر خواتین کو مبینہ طور ’جسم فروشی‘ میں ملوث ہونے کے الزام میں قتل کیے جانے کے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا تاہم انہوں نے امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں بعض افرد کو قتل کرنے اور گیارہ اکتوبر کو چھ مقامی افراد کو ایک جنازے کے دوران مقامی لوگوں کی موجودگی میں سرعام گلا کاٹ کر ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی۔
انکے بقول’ امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام کے تحت لوگوں کو قتل کیے جانے پر حکومت کو خوش ہونا چاہیے کیونکہ جو کام اسے کرنا ہے وہ ہم کررہے ہیں جبکہ جن چھ افراد کوگلا کاٹ کر مارا گیا وہ مبینہ طور پر ’ چور اور ڈاکو ، تھے جنہیں’ شریعت، کے مطابق سخت ترین سزا دی گئی ۔، واضح رہے کہ مہمند ایجنسی میں سرگرم مبینہ طالبان نے عمر خالد ہی کی سربراہی میں لال مسجد کے خلاف حکومتی آپریشن کے بعد ردعمل کے طور پر ایجنسی میں واقع حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار پر قبضہ کرکے اسے لال مسجد کا نام دے دیا تھا تاہم قبائلی عمائدین سے مذاکرات کے بعد انہوں نے قبضہ ختم کردیا تھا۔ مہمند ایجنسی کے طالبان نے یکم ستمبر کو بھی سکیورٹی فورسز کے انیس اہلکاروں کو اغواء کر لیا تھا جنہیں قبائلی مشران کے ساتھ ہونےوالی بات چیت کے نتیجے میں رہا کردیا گیا تھا۔ پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں کی طرح مہمند ایجنسی میں بھی مبینہ طور پر سرگرم طالبان اب روز بروز منظم ہورہے ہیں اور حکومتی ذرائع کے مطابق علاقے میں طالبان کی کاروائیوں میں دن بدن اضافہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔ | اسی بارے میں طالبان نے 6 افراد کےگلے کاٹ دیے12 October, 2007 | پاکستان مہمند ایجنسی میں لڑائی، نو ہلاک11 October, 2007 | پاکستان مبینہ ’امریکی جاسوس‘ کا سر قلم07 October, 2007 | پاکستان مہمند ایجنسی: حملہ، پانچ ہلاک20 September, 2007 | پاکستان ترنگزئی کے مزار قبضہ برقرار06 August, 2007 | پاکستان ’لال مسجد مشن جاری رکھیں گے‘31 July, 2007 | پاکستان مہمندایجنسی: مزار پرلال مسجد کابورڈ29 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||