BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہمند ایجنسی جھڑپ، سات ہلاک

مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان (فائل فوٹو)
جوابی حملے میں تیئس عسکریت پسند مارے گئے ہیں (فوجی ترجمان)
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے مابین ایک جھڑپ میں پانچ سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم سے کم سات افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سات سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعوی کیا ہے۔

مہمند ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح پشاور باجوڑ شاہراہ پر تحصیل صافی کے علاقے میں پیش آیا۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جوابی حملے میں تیئس عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مہمند رائفلز کی تین گاڑیاں سڑک پر جا رہی تھیں کہ قندہارو کے علاقے میں مسلح عسکریت پسندوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔

بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو پہلے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا تاہم انکار پر دونوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا جس میں کم سے کم پانچ سکیورٹی اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔ایک عینی شاہد کے مطابق زخمی ایف سی اہلکاروں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔

طالبان مطالبات
 اگر حکومت نے سوات میں آپریشن فوری طور پر بند نہ کیا اور مولوی عبد العزیز سمیت ان کے دیگر ساتھیوں کو رہا نہیں کیا گیا تو حکومتی فورسز کے خلاف حملے جاری رہیں گے
تحریک طالبان پاکستان

ایک دوسرے عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ایف سی کے پانچ اہلکاروں کی لاشیں دیکھیں جنہیں دیگر سکیورٹی اہلکار گاڑیوں میں ڈال رہے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا کہ شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی دو گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا۔

واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر مختلف مقامات سے شدید گولہ باری کی جس میں ایک عام شہری کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے سارے علاقے کو سیل کردیا اور مرکزی پشاور باجوڑ شاہراہ بھی ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند کردی گئی ہے۔

مہمند ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال واقعہ کے بارے میں مکمل رپورٹ نہیں ملی ہے۔ سرکاری موقف معلوم کرنے کے لیے مہمند ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ سے بار بار رابطے کوشش کی گئی تاہم ہر بار یہی جواب ملا کہ ’صاحب دفتر میں نہیں ہیں۔‘

ادھر تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس میں سات سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے بتایا کہ قندہارو کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں ان کے مطابق سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں طالبان کا کوئی جنگجو ہلاک یا زحمی نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے سوات میں آپریشن فوری طور پر بند نہ کیا اور مولوی عبد العزیز سمیت ان کے دیگر ساتھیوں کو رہا نہیں کیا گیا تو حکومتی فورسز کے خلاف حملے جاری رہیں گے۔

اسی بارے میں
مہمند ایجنسی: عورت کا سر قلم
28 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد