BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 July, 2008, 07:09 GMT 12:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو: طالبان کا ایف سی قلعہ پرحملہ

پاک فوج
سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے آٹھ شہری زخمی ہوئے ہیں
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں ہلاکتوں کے حوالے سے متضاد دعوے کیے جارہے ہیں۔

ہنگو سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کے مطابق سنیچر کی رات تقریباً دو سو کے قریب مسلح عسکریت پسندوں نے نواحی علاقے تورہ اوڑی میں ایف سی کے ایک قلعہ پر حملہ کیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قلعے پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی فائرنگ کی اور یہ سلسلہ صبح تک جاری رہا۔

ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ قلعے پر شدت پسندوں کا حملہ پسپا کردیا گیا ہے جبکہ مقامی لوگوں نے بھی سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیا ہے۔ تورہ اوڑی کے ایک رہائشی ندیم نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے دوران چند مارٹرگولے گھروں پر بھی گرے ہیں جس میں تین خواتین سمیت آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ اب تک کی کارروائیوں میں پندرہ مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے ہیں جبکہ آٹھ کوگرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے قبضہ میں لیے جانے والے علاقوں کو محفوظ بنانے کا کام جاری ہے۔

اورکزئی ایجنسی میں مقامی طالبان کے ترجمان مولوی حیدر نے بی بی سی کو فون کرکے دعوی کیا کہ تورہ اوڑی قلعے پر حملے میں پچیس سکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید دعوٰی کیا کہ گزشتہ رات زرگیری میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں جس میں ان کے مطابق متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تاہم دونوں دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

 سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے دوران چند مارٹرگولے گھروں پر بھی گرے ہیں جس میں تین خواتین سمیت آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
ندیم،توڑہ اوڑی

زرگیری میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہاں سرچ آپریشن جاری ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا کہ بازار میں واقع طالبان کے ایک دفتر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے جبکہ ان کے دیگر مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر ہنگو شہر اور دوابہ میں بدستور کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں سے منتقل ہونے والے لوگ کئی قسم کے مسائل سے دوچار ہیں۔ زرگیری کے ایک باشندے حسین جلالی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں کہ ان کے گاؤں اور گھر میں کیا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والوں لوگوں کے ذہنوں میں خدشات ہیں کہ کوئی ان کے گھروں میں لوٹ مار نہ کرے۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں لیکن سکیورٹی فورسز ان کو اجازت نہیں دے رہی ہیں۔

اسی بارے میں
ہنگو: بم حملےمیں ایک ہلاک
26 March, 2008 | پاکستان
مہاجرین کو یکم مارچ تک مہلت
05 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد