ہنگو: طالبان کا ایف سی قلعہ پرحملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں ہلاکتوں کے حوالے سے متضاد دعوے کیے جارہے ہیں۔ ہنگو سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کے مطابق سنیچر کی رات تقریباً دو سو کے قریب مسلح عسکریت پسندوں نے نواحی علاقے تورہ اوڑی میں ایف سی کے ایک قلعہ پر حملہ کیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قلعے پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی فائرنگ کی اور یہ سلسلہ صبح تک جاری رہا۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ قلعے پر شدت پسندوں کا حملہ پسپا کردیا گیا ہے جبکہ مقامی لوگوں نے بھی سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیا ہے۔ تورہ اوڑی کے ایک رہائشی ندیم نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے دوران چند مارٹرگولے گھروں پر بھی گرے ہیں جس میں تین خواتین سمیت آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ اب تک کی کارروائیوں میں پندرہ مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے ہیں جبکہ آٹھ کوگرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے قبضہ میں لیے جانے والے علاقوں کو محفوظ بنانے کا کام جاری ہے۔ اورکزئی ایجنسی میں مقامی طالبان کے ترجمان مولوی حیدر نے بی بی سی کو فون کرکے دعوی کیا کہ تورہ اوڑی قلعے پر حملے میں پچیس سکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید دعوٰی کیا کہ گزشتہ رات زرگیری میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں جس میں ان کے مطابق متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تاہم دونوں دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ زرگیری میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہاں سرچ آپریشن جاری ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا کہ بازار میں واقع طالبان کے ایک دفتر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے جبکہ ان کے دیگر مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ادھر ہنگو شہر اور دوابہ میں بدستور کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں سے منتقل ہونے والے لوگ کئی قسم کے مسائل سے دوچار ہیں۔ زرگیری کے ایک باشندے حسین جلالی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں کہ ان کے گاؤں اور گھر میں کیا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والوں لوگوں کے ذہنوں میں خدشات ہیں کہ کوئی ان کے گھروں میں لوٹ مار نہ کرے۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں لیکن سکیورٹی فورسز ان کو اجازت نہیں دے رہی ہیں۔ | اسی بارے میں ہنگو میں کارروائی جاری، خاتون ہلاک17 July, 2008 | پاکستان ایف سی کے قلعہ پر طالبان قابض14 July, 2008 | پاکستان ہنگو: طالبان پر فوج کی گولہ باری14 July, 2008 | پاکستان ہنگو میں ایک بٹالین فوج روانہ09 July, 2008 | پاکستان ہنگو میں فائرنگ سے چار ہلاکتیں17 June, 2008 | پاکستان ہنگو: بم حملےمیں ایک ہلاک26 March, 2008 | پاکستان ہنگو میں فرقہ وارانہ تشدد تاریخی پس منظر22 March, 2008 | پاکستان مہاجرین کو یکم مارچ تک مہلت05 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||