BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 July, 2008, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحدی چوکیاں خالی، طالبان قابض

طالبان
ان چوکیوں کو خوراک اور دوسرا سازوسامان پہچانا انتہائی مشکل کام تھا اور یہ علاقہ بھی خطرناک تھا: محمد جمیل
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے قریب بنائی گئی بعض چوکیاں خالی کردی ہیں جبکہ خالی کردہ چوکیوں پر اب مقامی طالبان قابض ہوگئے ہیں۔

باجوڑ ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ محمد جمیل نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ پاک افغان سرحدی علاقے لیٹے سر، دامنگی اور کگا پاس میں فرنٹیر کور نے کچھ عرصہ قبل چوکیاں قائم کی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ان چوکیوں کو خوراک اور دوسرا سازوسامان پہچانا انتہائی مشکل کام تھا اور یہ علاقہ بھی خطرناک تھا اس لئے چوکیاں ختم کرکے سکیورٹی فورسز کو وہاں سے دوسرے مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد علاقہ چھوڑا نہیں بلکہ یہ ایک معمول کی تبدیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحدی مقامات نواں پاس اور دیگر علاقوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز بدستور تعینات ہیں۔

اہلکار نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے وہاں کچھ دھماکے بھی کئے ہیں تاکہ ان کے بنائے ہوئے چوکیوں کو کوئی اور استعمال میں نہ لائے۔

دریں اثناء تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے خالی کردہ چوکیوں پر طالبان نے قبضہ کرلیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سرحدی علاقوں لیٹے سر، دامنگی اور کگا پاس پر قبضہ کے بعد اب سارا علاقہ ان کے کنٹرول میں آگیا ہے۔

ادھر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے علاقے میں افواہیں گردش کررہی ہیں کہ باجوڑ میں آپریشن کے لیے تیاریاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض سرحدی علاقوں سے دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہی ہیں جس سے علاقے میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

واضح رہے کہ باجوڑ ایجنسی کے دو تحصیلوں ماموند اور سلارزئی پر بظاہر مقامی طالبان کا قبضہ بتایا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں عسکریت پسند مسلح گشت بھی کرتے ہیں اور لوگوں کے مسائل حل کرانے کے لئے عدالتیں بھی قائم کی ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد