BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 July, 2008, 08:25 GMT 13:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ :سرکردہ قبائلی سردار ہلاک

فائل فوٹو
باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ کچھ عرصہ سے ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک سرکردہ قبائلی سردار کو گولی مار کر قتل کردیا ہے۔ حملے میں تین دیگر افراد زخمی بھی ہوگئے ہیں۔

باجوڑ ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ محمد جمیل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی صبح صدر مقام خار میں شنڈئی موڑ کے قریب پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ تحصیل ماموند کے ایک سرکردہ قبائلی سردار ملک شاہ جہان اپنی گاڑی میں پشاور جارہے تھے کہ سڑک کے کنارے گھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔

ان کے مطابق واقعہ میں ایک اور قبائلی ملک محمد ایاز شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج کے لیے پشاور منتقل کردیا گیا ہے جبکہ دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ ملک شاہ جہاں پشاور میں گورنر سرحد کی طرف سے بلائے گئے جرگہ میں شرکت کرنے جارہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی برامد کرلی گئی ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے اس واردات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ہوا کیا۔۔۔
 تحصیل ماموند کے ایک سرکردہ قبائلی سردار ملک شاہ جہان اپنی گاڑی میں پشاور جارہے تھے کہ سڑک کے کنارے گھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے
محمد جمیل ،اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ

ملک شاہ جہان کا تعلق ترکانی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ ان کا شمار ایجنسی کے سرکردہ قبائلی مالکان میں ہوتا تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں جب امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی توسب سے پہلے انہوں نے مقامی طالبان کے خلاف لشکر بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور چند شدت پسندوں کے گھر بھی جلائے تھے۔

بعض ذرائع کا کہ کہنا ہے کہ ملک شاہ جہان کو کافی عرصہ سے نامعلوم افراد کی طرف سے قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں جبکہ ان کے گھر ایک کفن بھی بھیجا گیا تھا۔

واضح رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ کچھ عرصہ سے ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اب تک اس قسم کے واقعات میں ایک درجن سے زائد قبائلی ملکان اور صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد