BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 July, 2008, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی فوجی کارروائی یا صرف ’پی آر‘ ؟

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری مذہبی انتہا پسندی کی کارروائیوں کے ضمن میں جون کے دوسرے ہفتے ہی سے ایسی خبروں کی آمد شروع ہو چکی تھی جنہیں طوفان کا پیش خیمہ کہا جا سکتا تھا۔

پچیس جون کو اسلام آباد میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، گورنر سرحد اویس غنی، وزیراعلیٰ سرحد امیر حیدر ہوتی، مشیر داخلہ رحمان ملک اور مشیر برائے قومی سلامتی محمود درّانی کے علاوہ خفیہ عسکری اداروں کے سربراہ بھی شریک تھے۔

اس اجلاس میں حکومت نے صراحت سے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو قبائلی علاقوں میں حکومتی عمل داری بحال کرنے کے لئے فوجی کارروائی کے وقت، دائرہ کار اور حکمتِ عملی کے حوالے سے تمام اختیارات سونپ دئیے۔

اجلاس کے فیصلوں سے بالکل واضح ہو گیا کہ فوجی کارروائی اب ہفتوں کی نہیں بلکہ دنوں کی بات ہے۔ اس اجلاس کی فیصلہ کن نوعیت کا ایک اشارہ 25 تاریخ ہی کو ٹی وی چینلوں پر اس اجتماع کے جزوی مناظر دکھانا تھا جس میں نام نہاد طالبان نے ڈمہ ڈولا کے مقام پر دو افراد کو سینکڑوں عوام کے سامنے ذبح کیا تھا۔

قبل ازیں ٹی وی خبرنامے اس نوعیت کی متعدد خبریں نشر کرنے سے قاصر رہے تھے۔ طالبان کی طرف سے شہریوں کو خود ساختہ الزامات پر سرعام سزائے موت دینے کی یہ فلم بظاہر سرکاری ذرائع سے ٹی وی چینلوں کو پہنچائی گئی تھی اور اس کا مقصد عوام کو ذہنی طور پر صورتِ حال کی سنگینی کے لئے تیار کرنا تھا۔

اس دوران پشاور کے عملی طور پر طالبان کے محاصرے میں ہونے کی خبر بھی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے لگی۔ بالآخر اٹھائیس جون کی صبح فرنٹیئر کانسٹیبلری کی خیبر ایجنسی کی طرف پیش قدمی کی خبر آئی۔

اے این پی کا کردار
آخری تجزیے میں اے این پی کا موقف مذہبی انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی نیز قانون پسند شہریوں اور محب الوطن سرکاری اہل کاروں کی حوصلہ شکنی پر منتج ہوا۔ انتخابی مہم کے دوران یکے بعد دیگرے خود کش حملوں کا نشانہ بننے سے بھی غالباً اے این پی کا عزم متزلزل ہوا ہو گا۔

توقع کے عین مطابق ایک خاص ترتیب سے ’قانون شکن عناصر‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات وقفے وقفے سے ذرائع ابلاغ کو جاری کی گئیں۔ تاہم یہ امر واضح تھا کہ کارروائی کرنے والی سرکاری نفری کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں تھا۔ جن عناصر کے خلاف کارروائی کرنا مقصود تھا وہ بہت پہلے کئی ہزار فٹ بلند تیراہ کی دشوار گزار وادی میں منتقل ہو چکے تھے اور سرکاری آپریشن سے بے نیاز آپس میں گھمسان کی لڑائی میں مصروف تھے۔ جس میں دونوں طرف سے بھاری جانی نقصان کی اطلاعات آرہی تھیں۔

حسبِ توقع مشیر داخلہ رحمان ملک نے کارروائی شروع ہونے کے بمشکل چوبیس گھنٹے بعد اعلان کیا کہ پشاور کے شمال مغرب میں واقع تیس کلو میٹر کے رقبے میں ریاستی عمل داری قائم کر دی گئی ہے نیز یہ کہ پشاور کو فوری طور پر طالبان کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے مخصوص سیاسی انداز میں یہ کہنا بھی مناسب سمجھا کہ یہ کوئی فوجی آپریشن نہیں بلکہ امن و امان کے ذمہ دار سول اور نیم فوجی اداروں کی طرف سے قانون شکن عناصر کے خلاف معمول کی کارروائی ہے۔

خیبر ایجنسی میں گزشتہ چند برسوں سے تین مختلف گروہ سرگرم تھے۔ لشکراسلام نامی تنظیم کے سربراہ منگل باغ ہیں۔ کٹر سلفی عقائد کے حامل منگل باغ خیبر ایجنسی اور گرد ونواح میں اسلامی نظام کے قیام کا بیڑا اٹھانے سے قبل پیشے کے اعتبار سے بس کلینر تھے۔

ان کا حریف گروہ انصار اسلام بریلوی مسلک کے صوفی عقائد کا حامل ہے۔ اس علاقے میں حاجی نامدار کی سرکردگی میں سرگرم تیسرے گروہ ’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘ کوکسی حد تک حکومتی تائید حاصل رہی ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق ہفتے کی صبح حاجی نامدار فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ہمراہ خیبر ایجنسی میں داخل ہوئے تھے۔ اپریل میں حاجی نامدار پر امریکی فوج کے ساتھ ساز باز کرکے متعدد طالبان کی ہلاکت کا الزام عائد کیا گیا جس کے کچھ روز بعد ہی ان کی عبادت گاہ پر خودکش حملہ میں متعدد ہلاکتوں کے علی الرّغم حاجی نامدار محفوظ رہے۔ پیر کی صبح بھی ان کے مرکز پر میزائل حملہ ہوا جس میں سات افراد جاں بحق ہوئے۔

باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل پر محیط خیبر ایجنسی پشاور کے مغرب میں تقریباً15 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور سے جغرافیائی قربت کی بنا پر حساسیت کے علاوہ یہاں وہ شاہراہ واقع ہے جس پر سے افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے لئے کراچی سے آنے والی 80 فیصد رسد گزرتی ہے۔ چنانچہ اس علاقے میں حکومتی عملداری کمزور ہونے پر افغانستان میں اتحادی افواج کو خاص طور پر تشویش ہے۔

سرِ عام سزائے موت کی فلم
طالبان کی طرف سے شہریوں کو خود ساختہ الزامات پر سرعام سزائے موت دینے کی یہ فلم بظاہر سرکاری ذرائع سے ٹی وی چینلوں کو پہنچائی گئی تھی اور اس کا مقصد عوام کو ذہنی طور پر صورتِ حال کی سنگینی کے لئے تیار کرنا تھا۔

اٹھارہ فروری کے انتخابات سے قبل پے در پے خودکش حملوں کے باعث امن و امان کے حوالے سے خاصے خدشات موجود تھے۔ تاہم فروری میں پاکستانی فوج اور تحریک طالبان میں جنگ بندی کے غیرعلانیہ معاہدے کے باعث انتخابات کے دوران کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا۔ انتخابات کے بعد صوبہ سرحد میں برسراقتدار عوامی نیشنل پارٹی نے مذہبی انتہا پسند گروہوں کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا۔

امن مذاکرات پر اتحادی قوتوں بالخصوص امریکہ نے خاصے تحفظات کا اظہار کیا کیونکہ قبل ازیں بیت اللہ محسود کے ساتھ فروری 2005میں معاہدے کے بعد پاکستان نے مکین بازار اور کرما پہاڑی سلسلے سے فوج ہٹا لی تھی جو بعد ازاں طالبان سرگرمیوں کے مراکز ثابت ہوئے۔ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر طالبان نے علاقے میں روایتی طور پر پاکستان کے وفادار قریب 150 ملک اور مشران قتل کر دیے تھے جس سے ریاستی عملداری کو شدید نقصان پہنچا۔

ستمبر 2006 میں ہونے والا معاہدہ جولائی 2007 میں لال مسجد آپریشن کے بعد ختم ہو گیا تھا۔ امن مذاکرات کے ہر دور کے بعد طالبان مضبوط ہوئے ہیں۔ افغانستان میں دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستان کی ریاست کی عملداری کمزور ہوئی ہے۔ تاہم پاکستان کی نومنتخب قیادت نے ان ناکام تجربات کے باوجود امن مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا۔

انتخابات کے بعد سے پاکستان زبردست سیاسی خلفشار کا شکار ہے۔ طاقت کے ایک سے زائد مراکز کی موجودگی میں انتظامیہ کے لئے اقتدار کا اصل سرچشمہ معلوم کرنا نہایت مشکل ہے۔ صدر پرویز مشرف بدستور ایوان صدر میں موجود ہیں لیکن 18 فروری کے انتخابات کے بعد ان کی سیاسی حیثیت اور فیصلہ سازی میں ان کے بالادست کردار کو زبردست دھچکا لگا ہے۔

مرکز میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز ) میں عدلیہ کی بحالی نیز صدر کے مواخذے کے تناظر میں اختلافات کے باعث وفاقی حکومت کو کسی صورت مستحکم نہیں کہا جاسکتا اس پر مستزاد یہ کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی موجودگی میں سیاسی طاقت کا اصل منبع پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری کے پاس سمجھا جاتا ہے۔

مذہبی انتہا پسندی کے بارے میں پیپلز پارٹی کا اصولی موقف معلوم ہونے کے باوجود پارٹی نے اپنے موقف کی شرح صدر سے وضاحت کر کے عوام کو پوری طرح اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا۔ گزشتہ تین ماہ میں مفاہمت کی پالیسی پر اندھا دھند بیانات سے عوام میں تاثر پیدا ہواکہ پیپلز پارٹی مذہبی انتہا پسندی کا کھل کر مقابلہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

مسلم لیگ نواز کا موقف
بین الاقوامی قوتوں کو کرائی جانے والی یقین دہانیوں سے قطع نظر عملی طور پر مسلم لیگ (نواز )نے ہر ایسے مطالبے کا کھل کر ساتھ دیا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر طالبان اور القاعدہ کے سیاسی موقف کو تقویت دیتا ہو اور جس سے مذہبی انتہاپسندی کی مزاحمت کرنے والی طاقتیں کمزور ہوتی ہوں۔

بین الاقوامی قوتوں کو کرائی جانے والی یقین دہانیوں سے قطع نظر عملی طور پر مسلم لیگ (نواز )نے ہر ایسے مطالبے کا کھل کر ساتھ دیا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر طالبان اور القاعدہ کے سیاسی موقف کو تقویت دیتا ہو اور جس سے مذہبی انتہاپسندی کی مزاحمت کرنے والی طاقتیں کمزور ہوتی ہوں۔ لال مسجد آپریشن ہو یا گم شدہ افراد کا معاملہ، صوبہ سرحد میں انتہا پسندی کا فروغ ہو یا ڈاکٹر قدیر خاں کی نظر بندی، غالباً مسلم لیگ (نواز) ہر قیمت پر مذہبی ووٹ بینک کی ہمدردیاں برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

صوبہ سرحد میں برسراقتدار عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت ایک طرف تو وفاقی حکومت کے عدم تعاون کی شاکی ہے، دوسری طرف ان کے رہنما طالبان سے گفت و شنید کی غیرمعمولی شدومد سے وکالت کرتے رہے۔ اس سے یہ تاثر ملا کہ اے این پی طاقتور انتہا پسندوں کے ساتھ کھلے تصادم سے گریز کر کے صوبے میں اپنی حکومت بچانے کی خواہاں ہے بلکہ طالبان کو پختون قومیت کے تناظر میں پیش کر کے ان کی طویل مدتی ہمدردیاں سمیٹنا چاہتی ہیں۔

سیاسی قوتوں میں اس رسہ کشی کے دوران ایوان صدر کی ساری توجہ پرویز مشرف کی صدارت بچانے پر مرکوز رہی۔ مارچ کے آخری ہفتے کے بعد سے صدر مشرف نے ملکی سلامتی، جغرافیائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کو درپیش اس اہم ترین خطرے پر کھل کر لب کشائی سے گریز کیا۔ دوسری طرف فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اپنی نئی پیشہ وارانہ حیثیت میں حالات و واقعات کا احتیاط سے جائزہ لے رہے تھے۔

بعض حلقوں کے مطابق اگرچہ ابتدائی طور پر انہیں مذہبی انتہاپسندی کا مخالف سمجھاگیا تاہم ان پر جلد ہی واضح ہوگیا کہ فوج کے چند حلقوں میں بھی طالبان سے کسی حد تک ہمدردی پائی جاتی ہے۔

فائل فوٹوسقوطِ پشاور؟
پشاور طالبان کے گھیرے میں
باڑہ کا بازارباڑہ میں آپریشن
لوگوں کا نقصان اور مذہبی تنازعے
اسی بارے میں
مذاکرات میں تعطل ختم
26 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد