’پینتیس طالبان جنگجوگرفتار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان نے ہنگو میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن میں القاعدہ کے ایک اہم رُکن امجد سمیت کالعدم تنظیموں کے پینتیس ارکان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دوسری طرف ہنگو میں مقامی طالبان اور امن جرگہ کے درمیان مذاکرات کے بعد عارضی جنگ بندی ہو گئی ہے۔ ہنگو میں مقامی طالبان کے خلاف آپریشن میں ایک سرکردہ رکن سمیت پینتیس ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے جمعہ چکلالہ ایئر بیس پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ رحمان ملک نے کہا کہ یہ افراد قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی تحویل میں ہیں اور اُن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ مشیر داخلہ اور وزارت داخلہ کی طرف سے اس مبینہ شدت پسند کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا گیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل حکومت یہ دعوے کرتی رہی ہے کہ ہنگو میں 13جولائی سے جاری فوجی آپریشن کے دوران قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود کے ڈپٹی کمانڈر رفیع الدین کو گرفتار کر لیا ہے جس کی مقامی طالبان نے تردید کی تھی۔ پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق ہنگو میں فوجی کارروائی کے دوران بیس شدت پسند ہلاک اور ساٹھ کو گرفتار کرکے مقامی انتظامیہ کے حوالے کردیا گیا تھا جبکہ اس آپریشن کے دوران فرنٹیئر کانسٹیبلری کے سولہ اہلکار ہلاک اور فوج کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ رحمان ملک نے دعوی کیا کہ سندھ اور پنجاب میں خودکش حملے ختم ہوچکے ہیں جبکہ صوبہ سرحد میں خودکُش حملوں میں اسی فیصد کمی آئی ہے۔ ادھر پشاور سے ہمارے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں امن جرگہ اور مقامی طالبان کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد عارضی فائر بندی ہوگئی ہے، جبکہ طالبان نے خیر سگالی کے طورپر یرغمال بنائے جانے والے پچاس سرکاری اہلکاروں میں سے آٹھ کو رہا کر دیا ہے۔ جرگہ کے ایک رکن مولانا حسین اصغر نے بی بی سی کو بتایا کہ علماء کرام ، مشران اور منتخب نمائندوں پر مشتمل امن جرگہ نے جمعرات کو کوہاٹ ڈویژن کے ریجنل کوآرڈنیشن آفیسر اور طالبان کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کئیں۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کی جانب سے اختیار ملنے کے بعد جرگہ نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی طالبان نے خیر سرسگالی کے طورپر آٹھ یرغمالیوں کو آزاد کرکے جرگہ کے حوالے کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے اختتام تک جنگ بندی برقرار رہی گی جبکہ پیر سے طالبان اور جرگہ کے درمیان باقاعدہ بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائےگا۔ دریں اثناء اورکزئی ایجنسی میں طالبان کے ترجمان مولوی حیدر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ جرگہ کے احترام میں آٹھ یرغمالیوں کو رہا کر کے مشران کے حوالے کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد ان کی طرف سے ہر قسم کی کارروائیاں ختم کردی گئی ہے۔ ادھر جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی دوابہ شہر میں پہلی دفعہ صبح سے شام چار بجے تک کرفیو میں نرمی کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لے کھول دی گئی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا کہ علاقے میں حالات معمول پر آنے سے نقل مکانی کرنے والے لوگ واپس اپنے گھروں کی طرف لوٹنا شروع ہوئے ہیں تاہم ان کی تعداد انتہائی کم بتائی جارہی ہے۔ گزشتہ روز پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا تھا کہ ہنگو میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں تمام اہم اہداف حاصل کرلئے گئے ہیں جبکہ علاقے میں حکومت کی عمل داری بھی بحال کردی گئی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا تھا کہ علاقے کو عسکریت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ تقریباً دو ہفتے قبل ہنگو پولیس نے فلیگ مارچ کے دوران چھ طالبان جنگجوؤں کو گرفتار کیا تھا۔ طالبان نے جوابی کارروائی کے طور پردوابہ پولیس اسٹیشن کو کئی گھنٹوں تک محاصرے میں لیئے رکھا جبکہ کئی سرکاری ملازمین کو اغواء بھی کیا جو بدستور طالبان کے قبضے میں ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے حالات سے نمٹنے کےلئے ایک بٹالین فوج طلب کرلی جس کے بعد علاقے میں طالبان کے خلاف میں آپریشن شروع کردیا گیا جو تقریباً دس دنوں تک جاری رہا۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو تبایا کہ یہ سب کو معلوم ہے کہ چھ طالبان حکومتی اداروں کی تحویل میں ہیں اور ان میں سے کچھ کا تعلق وزیرستان اور کچھ ہنگو کے مقامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے چار ساتھی جن میں انور، رفیع اللہ، نصیر اور وزیر شامل ہیں قانون فافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں اور ان فراد کی رہائی کے لیے علاقے میں کارروائی کی گئی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد عربی باشندے ہیں اور عرب میں امجد نام بہت کم سُننے کو ملتا ہے۔ | اسی بارے میں ہنگو میں جرگہ ناکام، کرفیو نافذ16 July, 2008 | پاکستان ہنگو میں کارروائی جاری، خاتون ہلاک17 July, 2008 | پاکستان زرگیری:’سکیورٹی فورسز کا کنٹرول‘18 July, 2008 | پاکستان ہنگو: طالبان کا ایف سی قلعہ پرحملہ20 July, 2008 | پاکستان طالبان کو پناہ دینے پر جرمانہ21 July, 2008 | پاکستان ہنگو میں اہداف حاصل: فوج22 July, 2008 | پاکستان ہنگو: جنگ بندی کوششیں، شیلنگ23 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||