BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 July, 2008, 08:38 GMT 13:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو میں اہداف حاصل: فوج

آپریشن بند کرنے کے بارے میں کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو میں مقامی طالبان کے خلاف جاری آپریشن میں تقربناً تمام اہداف حاصل کرلئے گئے ہیں۔ تاہم کارروائیاں بند کرنے کے بارے تاحال کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلع ہنگو میں تمام اہم علاقوں کو صاف کردیا گیا ہے جبکہ قبضہ میں لیے جانے والے علاقوں کو محفوظ بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔

دریں اثناء ہنگو میں حکام کے مطابق گزشتہ شام کی خاموشی کے بعد منگل کی صبح سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر نواحی علاقے تورہ اوڑی میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز حکام نے علاقے کے مشران کو طلب کرکے ان سے مطلوب افراد کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ تورہ اوڑی کے ایک ملک نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے طالبان کا ساتھ دینے والے افراد کے خلاف کارروائی شروع کی ہے اور ان کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے۔

دوسری طرف ہنگو شہر سے تقربناً چالیس کلومیٹر دور دوابہ شہر میں گزشتہ دو ہفتوں سے کرفیو بدستور نافذ ہے جبکہ مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ بھی عام ٹریفک کےلیے بند ہے۔

تاہم انتظامیہ نے کھانے پینے کی اشیاء لے جانے والی گاڑیوں کو اجازت دی ہے۔ ہنگو شہر میں دن کے وقت کرفیو ختم کردیا گیا ہے۔

دوسری طرف ہنگو کے مشران اور منتخب نمائندوں پر مشتمل ایک جرگہ مقامی طالبان سے بات چیت کےلیے اورکزئی ایجنسی پہنچ چکا ہے۔ جرگہ میں شامل ایک رکن نے بتایا کہ جرگے کے اراکین علاقے میں فوری جنگ بندی اور طالبان کی طرف سے یرغمال بنائے جانے والے پچاس کے قریب حکومتی اہلکاروں کی رہائی کے حوالے سے مذاکرات کریں گے۔

ادھر ہنگو کے نواحی علاقوں زرگیری، شنہ وڑی، تور چپر، غلو چینہ اور شمشہ دین بانڈہ سے نقل مکانی کرنے والے درجنوں افراد نے ہنگو پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ آپریشن ختم کرکے انہیں اپنےگھروں میں واپس جانے کی اجازت دی جائے۔

مظاہرین کی قیادت کرنے والے جمعیت علماء اسلام (ف) کے ایک رہنما میاں حسین جلالی نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کی وجہ سے زرگیری اور مضافاتی علاقوں سے بیس ہزار سے زائد افراد نے نقل مکانی کی ہے اور دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد