BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 July, 2008, 10:37 GMT 15:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہمند میں طالبان کی باہمی جھڑپ

طالبان(فائل فوٹو)
مخالف گروپ غیروں کے اشاروں پر مقامی عسکریت پسندوں کے لیے مسائل پیدا کر رہا تھا: بیت اللہ گروپ
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان کے دوگروپوں کے مابین جھڑپ میں پندرہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

مہمند ایجنسی میں بیت اللہ گروپ کے تحریک طالبان پاکستان کے مقامی ترجمان ڈاکٹر اسد نے کہا کہ ان کے حامیوں نے مخالف شاہ صاحب گروپ کے امیر اور نائب امیر سمیت پندرہ افراد کو قتل کردیا ہے جبکہ ان کے بیس حامیوں اور دو مراکز کو بھی قبضہ میں لیا ہے۔

بیت اللہ گروپ کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مخالف گروپ غیروں کے اشاروں پر چل کر مہمند ایجنسی میں مقامی عسکریت پسندوں کے لیے مسائل پیدا کر رہا تھا۔ ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ مخالفین کے مراکز سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گاڑیاں بھی قبضہ میں لی گئی ہیں۔

’کشیدگی چل رہی تھی‘
 تحریک طالبان کے علاقائی امیر عمر خالد اور شاہ خالد گروپ کے درمیان گزشتہ چند دنوں سے کشیدگی چلی آرہی تھی۔ دونوں گروہوں نے ایک جھڑپ کے نتیجے میں ایک دوسرے کے حامیوں کو حراست میں لیا تھا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں عمر خالد گروپ کے ایک اہم کمانڈر نثار بھی ہلاک ہو گئے
مقامی ذرائع
مقامی ذرائع کے مطابق تحریک طالبان کے علاقائی امیر عمر خالد اور شاہ خالد گروپ کے درمیان گزشتہ چند دنوں سے کشیدگی چلی آرہی تھی۔ دونوں گروہوں نے ایک جھڑپ کے نتیجے میں ایک دوسرے کے حامیوں کو حراست میں لیا تھا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں عمر خالد گروپ کے ایک اہم کمانڈر نثار بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کی شام عمر خالد گروپ نے مخالف گروہ کے امیر شاہ خالد المعروف شاہ صاحب، نائب امیر اور ان کے دو مراکز پر قبضہ کیا اور ان کے سو سے زائد حامیوں کو بھی حراست میں لے لیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ شاہ صاحب اور ان کے نائب امیر سمیت پندرہ افراد کو قتل کردیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے شاہ صاحب گروپ کا تعلق اہلحدیث مسلک سے تھا جبکہ عمر خالد اور ان کے حامی دیوبندی مسلک سے بتائے جاتے ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ گروپ افغانستان میں سرگرم عمل تھا جبکہ وہ مقامی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا تھا۔

مہمند ایجنسی میں ہلاک ہونے والے شاہ گروپ کے امیر شاہ خالد، نائب امیر مولوی عبید اللہ اور تین دیگر حامیوں کی نماز جنازہ سنیچر کی شام عید گاہ پشاور میں ادا کی گئی جس میں شاہ گروپ کے حامیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

نماز جنازہ کے بعد خود کو شاہ صاحب گروپ کے ترجمان ظاہر کرنے والے خطاب نامی ایک شخص نے صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا کہ افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا عمر ان کے امیر المومنین ہیں اور ان کا گروپ ملا عمر ہی کے کہنے پر افغانستان میں کفر کے خلاف جہاد کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے گروپ نے پاکستان میں کبھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ترجمان نے ملاعمر اور دیگر جہادی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ کمانڈر شاہ خالد اور دیگر ساتھیوں کی ہلاکت کا نوٹس لیں اور اس واقعہ کی تحقیقات کی جائے۔

اسی بارے میں
مہمند میں جھڑپ، سات ہلاک
26 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد