BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 July, 2008, 14:25 GMT 19:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیت اللہ کی دھمکی پر کابینہ کا اجلاس

بیت اللہ محسود نے حکومت کے ساتھ معاہدہ بھی کیا تھا۔
صوبہ سرحد کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ امن وامان کے قیام کےلیے مذاکرات اور جرگہ کے ذریعے مسائل کے حل کی پالیسی جاری رہے گی تاہم ہتھیار نہ پھینکنے والوں اور حکومتی عمل داری چیلنج کرنے والوں کے خلاف طاقت کا بھر پور استعمال کیا جائے گا۔

پیر کو پشاور میں سرحد کابینہ کا اجلاس وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی طرف سے صوبائی حکومت کو پانچ دنوں میں مستعفی ہونے کی دھمکی پر تفصیلی غور وخوص کیا گیا۔

اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بتایا کہ کابنیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام تر حالات کے باوجود پہلی کوشش کے طور پرمسائل کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور روایتی جرگوں کے ذریعے معاملات طے کئے جائیں گے۔

تاہم اگر کوئی مسلح گروپ یا تنظیم حکومت کی پالیسی سے استفادہ کرنے کے بجائے جنگ اور تشدد پر بضد ہوا تو پھر حکومت کی مجبوری ہوگی کہ اپنی رٹ کے قیام کےلیے بھرپور طاقت کا استعمال کرے۔

کابینہ کا اجلاس وزیر اعلی کی صدارت میں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ حالات آئیڈیل نہیں ہیں تاہم اس کے باوجود حکومت پہلے آپشن کے طورپر مذاکرات کریگی اور اگر بات چیت کامیاب نہیں ہوتے تو پھر مجبوراً حکومت رٹ بحال کریگی۔

میاں افتخار نے مزید بتایا کہ سرحد حکومت سوات امن معاہدے پر قائم ہے اور تمام تر روکاوٹوں کے باوجود خلوص نیت سے قیام کےلیے اقدامات کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دوسرا فریق امن معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا اور تشدد کے ذریعے معاملات طے کرانا چاہتا ہے تو پھر حکومت کو مجبوراً امن بحال کرنے کی خاطر کارروائی کرنا ہوگی۔

واضح رہے کہ پانچ دن قبل تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے سرحد حکومت پر ہنگو اور سوات میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کا الزام لگاتے ہوئے حکومت کو پانچ دنوں میں مستفعی ہونے کی مہلت دی تھی۔

مہلت پیر کو ختم ہونا تھی۔ بیت اللہ نے دھمکی دی تھی کہ حکومت مستعفی نہ ہوئی تو صوبائی حکومت کے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائیگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد