BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 July, 2008, 17:18 GMT 22:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امن کا عمل دباؤ کا شکار‘

شیو شنکر مینن اور سلمان بیشر
دونوں خارجہ سیکرٹریوں نے الگ الگ پریس کانفرنسوں سے خطاب کیا
پاکستان نے ہندوستان کے ان الزامات کو پھر مسترد کیا ہے کہ کابل میں بھارتی سفارتخانہ پر حملے میں اس کا ہاتھ تھا۔

نئی دلی میں پاکستان کے خارجہ سکریٹری سلمان بشیر نے اپنے ہندوستانی ہم منصب شیو شنکر مینن سے بات چیت کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں بھارت کے اس الزام کو بے بنیاد بتایا کہ کابل میں اس کے سفارتخانے پر پاکستان کے بعض عناضر کا ہاتھ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کی الزام تراشی کا مقصد کیا ہے؟ ایسے الزامات تو وہ لگاتے ہیں جن کی اپنی پوزیشن بہت کمزور ہوتی ہے، آپ کو پتہ ہے اس کی شروعات کہاں سے ہوئی تھی، یہ لمبا سفر طے کر کے اگر دلی پہنچے ہیں تو ہم ان کے شکوک و شبہات دور کرنے کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

مسٹر بشیر کا کہنا تھا کہ کابل حملے کا ذکر بات چیت میں ضرور آیا لیکن
’جب اس بارے میں شیو شنکر مینن سے ہم نے ثبوت مانگا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت ایسی کسی چیز کو ‎’شیئر‘ کرنا نہیں چاہتے ہیں۔‘

بد قسمتی سے ماضی قریب میں ہمارے درمیان ایسے کئی امور رہے ہیں جن سے ماحول خراب ہوا ہے اور امن کا عمل دباؤ کا شکار ہوگیا ہے
شیو شنکر مینن، بھارت کے خارجہ سکریٹری

بات چيت کے بعد بھارت کے خارجہ سکریٹری شیو شنکر مینن نے ایک علحیدہ پریس کانفرنس میں کہا پاکستان میں بعض عناصر بھارت کے خلاف سرگرم ہیں۔
’ بد قسمتی سے ماضی قریب میں ہمارے درمیان ایسے کئی معاملات رہے ہیں جن سے ماحول خراب ہوا ہے اور امن کا عمل دباؤ کا شکار ہوگیا ہے۔‘

شیو شنکر مینن کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے بعد ’ہمارے رشتے ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔‘

 پاکستان پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن اسے کسی’سرٹیفیٹ‘ کی ضرورت نہیں ہے۔ ’میں ان کے جذبات کا احترام کرتا ہوں، میں انہیں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ ان کی مایوسی دور کی جا سکتی ہے اور میں نے ان سے یہی کہا ہے کہ ہم تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں
پاکستان کے خارجہ سکریٹری سلمان بشیر

پاکستان کے خارجہ سکریٹری سلمان بشیر بھارت کے سخت لہجے کو نظر انداز کرتے رہے اور کہا کہ وہ مثبت پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔

لیکن جب ان سے بار بار پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن اسے کسی’سرٹیفکیٹ‘ کی ضرورت نہیں ہے۔

’میں ان کے جذبات کا احترام کرتا ہوں، میں انہیں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ ان کی مایوسی دور کی جا سکتی ہے اور میں نے ان سے یہی کہا ہے کہ ہم تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

اس دوران فریقین نے جموں روالہ کوٹ اور سری نگر مضفرآباد کے درمیان بس سروس کی’فریکونسی‘ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے اور اب یہ بس ہفتے میں ایک بار چلا کریگی۔

سفر کے لیے پرمٹ سسٹم میں بھی نرمی کا اعلان کیا گیاہے۔ فریقن اب ایسا پرمٹ جاری کریں گے جس سے تین بار آنے جانے کی اجازت ہوگی۔

دونوں جانب سے تجارت کو فروغ دینے کی بھی بات کہی گئی اور اس بارے میں جلدی اقدامت کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

دونوں ملکوں نے کمپوژٹ ڈائیلاگ کے پانچويں دور کو شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے لیکن اس کے باوجود دونوں فریقین ایک دوسرے کے رویے سے مطمئن نظر نہیں آتے۔

ہند پاک سرحد پر مشترکہ جشن آزادی پاک ہند جشن آزادی
واہگہ اور اٹاری پر مشترکہ موسیقی پروگرام
آمدو رفت بڑھ گئی
پاک انڈیا امن اقدام سے عوامی روابط میں فروغ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد