BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 August, 2008, 06:45 GMT 11:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ جھڑپیں، ہلاکتوں کے دعوے

باجوڑ میں ابھی تک اس نوعیت کی شدید جھڑپ نہیں ہوئی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور حکام نے پانچ اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کے علاوہ پچیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

طالبان نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے بائیس اہلکاروں کو ہلاک جبکہ سترہ کو یرغمال بنانے کا دعوٰی کیا ہے۔ آزاد ذرائع سے فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

دوسری طرف باجوڑ ہی میں دو الگ الگ واقعات میں فوجی قافلوں پر بم حملوں میں ایک اہلکار کے ہلاک جبکہ چار کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

باجوڑ ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صدر مقام خار سے تقریباً بارہ کلومیٹردور واقع لوئی سم کے علاقے میں سکیورٹی فوسز اور طالبان بدھ کی شام سے ایک دوسرے پر مسلسل بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کر رہے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک اعلی اہلکار میجر مراد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب کل شام صدر مقام خار سے تقریباً بارہ کلومیٹردور واقع لوئی سم کے علاقے میں طالبان نےسکیورٹی فوسز کے ایک قافلے پر حملہ کردیا۔ ان کے بقول سکیورٹی فورسز نے جوابی حملہ کیا اور بدھ کی شام سے مسلسل طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کونشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول ان جھڑپوں میں اب تک پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں جبکہ پچیس طالبان جنگجوؤں کو مارا گیا ہے۔

 علاقے میں مسلسل دھماکوں کی آواز یں سنائی دے رہی ہیں۔گن شپ ہیلی کاپٹر بمباری کر رہے ہیں جبکہ اب سے کچھ دیر قبل چار جیٹ طیاروں نے آ کر گولہ باری کی۔
عینی شاہد

طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے حکومتی مؤقف کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا صرف ایک ساتھی ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔مولوی عمر نے دعوی کیا کہ انہوں نے سکیورٹی فورسز کے بائیس اہلکاروں کو ہلاک جبکہ سترہ کو یر غمال بنایا ہے۔ ان کے مطابق یر غمال بنائے جانے والوں میں چھ اہلکار زخمی بھی ہیں تاہم حکومت نے طالبان کے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز صدر مقام خار سے لوئی سم کے علاقے کو توپوں کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ لوئی سم کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گن شپ ہیلی کاپٹر علاقے پر بمباری کر رہے ہیں تاہم انہوں نے جھڑپوں میں عام شہریوں کی ہلاکت سے بے خبری کا اظہار کیا ہے۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ علاقے میں مسلسل دھماکوں کی آواز یں سنائی دے رہی ہیں۔گن شپ ہیلی کاپٹر بمباری کر رہے ہیں جبکہ اب سے کچھ دیر قبل چار جیٹ طیاروں نے آ کر گولہ باری کی‘۔

دوسری طرف ملک عبدالعزیز کی سربراہی میں قائم ایک قبائلی جرگہ نے بھی فریقین کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیےطالبان اور حکومت اہلکاروں سے جمعرات کے روز کئی ملاقاتیں کیں مگر ان کی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

قبائلی علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے طالبان کے خلاف ہونے والی کاروائیوں میں باجوڑ میں ابھی تک اس نوعیت کی شدید جھڑپ نہیں ہوئی ہے۔
سکیورٹی فورسز نے بدھ کے روز لوئی سم کے جس علاقے کی طرف پیش قدمی کی ہے وہ طالبان کے لیے بہت ہی اہم راستہ ہے۔ اسی راستے سے باجوڑ اور مہمند ایجنسی کے طالبان کے درمیان رابطے ہوتے ہیں۔ حکومت کا اس علاقے میں کنٹرول حاصل کرنے سے بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ وہ مہمند اور باجوڑ میں سرگرم طالبان کو تقسیم کرنا چاہ رہی ہے۔

اسی بارے میں
وزیرستان میں راکٹ حملے
05 August, 2008 | پاکستان
طالبان، حکومت اقدامات کرے
05 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد