BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 August, 2008, 06:22 GMT 11:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزید سکول جلےاور ہلاکتوں کے دعوے

مشتبہ طالبان(فائل فوٹو)
سوات میں ساٹھ سے زیادہ لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے
صوبۂ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ واقعات میں دو مزید سکولوں کو نذرآتش کیا گیا ہے جبکہ بنیادی صحت کے ایک مرکز کو بھی دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کی اطلاعات ہیں۔

سوات سے ملنے والی اطلاعات میں پولیس کے مطابق پہلہ واقعہ خوازہ خیلہ تحصیل کے علاقے کیشورہ کے مقام پر اتوار کی رات اس وقت پیش آیا جب نامعلوم مسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک مڈل سکول کو تیل چھڑک کر آگ لگائی جس سے چند کمروں پر مشتمل سکول تباہ ہوگیا ہے۔

عام شہری
 مقامی ذرائع کے مطابق ایک ہفتے سے جاری جھڑپوں میں اب تک دو درجن سے زائد عام شہری مارے جاچکے ہیں
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح نقاب پوشوں نے مالم جبہ سڑک پر واقع بنیادی صحت کے ایک مرکز کو بھی دھماکہ خیز مواد میں اڑایا ہے تاہم سرکاری طورپر اس واقعہ کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے مینگورہ شہر کے نواحی علاقے اینگرو ڈھیری میں بھی لڑکیوں کے ایک مڈل سکول کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی جس سے سکول کے فرنیچر اور دیگر ریکارڈ کو نقصان پہنچا ہے۔

تھانہ رحیم آباد کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس واقعہ میں سکول کی عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے تاہم فرنیچر اور ریکارڈ تباہ ہوگیا ہے۔

ادھر پاکستان فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی شام رونیال کے علاقے میں میں ایک جھڑپ میں طالبان کے پندرہ جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسی واقعہ میں 40 سکیورٹی اہلکار ہلاک کیے ہیں۔

فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کارروائی میں متعدد طالبان زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بیان کے مطابق گزشتہ ہفتے شروع کی جانے والی اس کارروائی میں مولانا فضل اللہ کے ساٹھ سے زائد حامیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ایک ہفتے سے جاری جھڑپوں میں اب تک دو درجن سے زائد عام شہری مارے جاچکے ہیں۔

دریں اثناء سوات میں مقامی انتظامیہ نے سوات کے تمام علاقوں میں صبح سات سے لیکر شام سات بجے تک کرفیو میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
سوات میں لڑائی، نقل مکانی
01 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد