BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 July, 2008, 20:08 GMT 01:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج کا طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ

تین دنوں میں ایک اندازے کے مطابق67 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں
پاکستانی فوج نے صوبۂ سرحد کے ضلع سوات میں مزید بیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جس کے ساتھ ہی دو دنوں کے دوران ہلاک ہونے والے طالبان کی تعداد پینتالیس ہوگئی ہے۔ طالبان نے اپنے پانچ ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو طالبان اورسکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں بیس مزید طالبان کو ہلاک کیا گیا ہے۔

ان کے دعوی کے مطابق بدھ کی صبح سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک پینتالیس کے قریب طالبان عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق تازہ ہلاکتیں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کوتحصیل مٹہ کے باما خیلہ کے علاقے میں ہوئی ہیں۔

’دشمن ملکوں کی لڑائی‘
 گزشتہ شب کی شدید فائرنگ کے نتیجے میں پندرہ مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔فریقین نے ایک دوسرے پر اتنی شدید فائرنگ کی جیسے دو دشمن ممالک کے درمیان لڑائی ہورہی ہو
شہری ابراہیم
فوجی حکام نے بدھ کو کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران پانچ اہلکاروں سمیت پچیس طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بیس مزید طالبان کی ہلاکت کے تازہ دعوے کے بارے میں طالبان کا مؤقف جاننے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی البتہ بدھ کو طالبان نے کہا تھا کہ ان کے صرف پانچ ساتھی مارے گئے ہیں۔

بدھ اور جمعرات کی شب کو تحصیل کبل کے علاقے دیولئی میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار اور نو عام شہریوں سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے سات افراد بھی شامل ہیں۔

تیس ہزار نفوس پر مشتمل دیولئی کے ایک رہائشی ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ شب کی شدید فائرنگ کے نتیجے میں پندرہ مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ان کے مطابق’ فریقین نے ایک دوسرے پر اتنی شدید فائرنگ کی جیسے دو دشمن ممالک کے درمیان لڑائی ہورہی ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ علاقے سے تقریباً چالیس خاندانوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے۔

دوسری طرف سوات میں بدھ کو نافذ ہونے والے کرفیو میں جمعرات کے روز دس سے بارہ بجے تک نرمی کی گئی۔ اس دوران گھروں میں محصور لوگوں نے باہر نکل کرضروری اشیاء کی خریداری کی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقےمیں کشیدہ صورتحال کی وجہ سے تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بند پڑے ہیں۔ طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان گزشتہ تین دنوں سے وقفے وقفے سے جاری جھڑپوں میں اب تک سکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکاروں، پینتالیس طالبان اور گیارہ شہریوں سمیت مجموعی طور پر 67 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ طالبان اپنے پانچ ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کررہے ہیں۔

اسی بارے میں
سوات:25 طالبان سمیت 30 ہلاک
30 July, 2008 | پاکستان
سوات: ایک ہلاک دو زخمی
25 June, 2008 | پاکستان
سوات: کشیدگی اور ہلاکتیں
29 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد