عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | سوات میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے |
صوبہ سرحد کی شورش زدہ وادی سوات میں پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک سرکاری دینی مدرسے کے مہتمم کو گولیاں مار کر قتل کردیا ہے۔ خوازہ خیلہ پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل چہار باغ کے سڑہ چینہ کے علاقے میں واقع ایک سرکاری دینی مدرسے کے مہتمم مولانا مسعود کو پیر کی شب ہلاک کیا گیا۔ ان کے بقول مقتول ادب گھر مسجد میں عشاء کی نماز کی ادائیگی کے بعد اپنےگھر واپس آرہے تھے کہ تین مسلح نقاب پوشوں نے ان پر گولیاں چلا دیں جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مرحوم کے بھتیجے بلال احمد دانش نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی ہے اور نہ ہی انہیں اس سے قبل قتل کی کوئی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ یاد رہے کہ سوات کے ہی علاقے کبل میں بھی کچھ عرصے قبل تنظیم اشاعت و توحید کے مقامی رہنماء کو بھی نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔ سوات میں مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان گزشتہ سال شروع ہونے والی جھڑپوں میں سرکاری اہلکاروں اور سیاسی رہنماؤں کی ’ٹارگٹ کلنگ’ کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں تاہم کچھ عرصے کے دوران مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنائے جانے کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ |