رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور |  |
 | | | سوات میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے |
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ واقعات میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات میں پولیس کے مطابق پہلا واقعہ تحصیل مٹہ کے علاقے رونیال میں اتوار کی صبح پیش آیا جہاں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر ریموٹ کنٹرول سے کیے گئے بم حملے میں دو فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ۔ تھانہ مٹہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔ تاحال کسی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ مٹہ ہی میں سنیچر کی رات ایک اور واقعہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے دو مقامی باشندوں کوہلاک کردیا ہے جبکہ تحصیل کبل میں بھی ایک نامعلوم شخص کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ ان افراد کے مارے جانے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ ادھر گزشتہ رات خوازہ خیلہ کےعلاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے پاکستان مسلم لیگ (قاف) کے رہنما اور سابق ممبر صوبائی اسمبلی قمیص خان کے گھر پر حملہ کیا جس سے ان کے بھائی بشیر خان ہلاک ہوگئے۔ سوات میں حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل پیدا ہونے کے بعد جمعہ کو فریقین نے ایک اجلاس میں امن معاہدے کو برقرار رکھتے ہوئے بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا لیکن اس کے باوجود وہاں پر لوگوں کو قتل کرنے، لڑکیوں کے سکولوں کو نذرِ آتش کرنے،حکومتی اِملاک کو تباہ کرنے اور دیگر نوعیت کے پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ |